انوارالعلوم (جلد 3) — Page 109
1۔9 پھونکوں سے اس رسول کے کام کو مٹانا چاہیں گے اور چاہیں گے کہ باتیں بنا بنا کر اس کے کام کو روک دیں اور اس کی ترقی کو بند کر دیں۔اور وہ زمانہ یہی ہے جبکہ اللہ تعالٰی نے ایک ایسی منصف حکومت قائم کر دی ہے کہ جس کے زیر سایہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں اور اگر کوئی شخص ظلم کرنے لگے تو یہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔چنانچہ اس وقت ہمارے مخالفوں کے پاس سوائے فتوؤں اور گالیوں کے کچھ نہیں۔اور وہ اپنے فتوؤں سے چاہتے ہیں کہ ہمارے کام کو مٹا دیں لیکن ان کے ہاتھ میں ایسے سامان نہیں ہیں کہ جن کے ذریعہ سے زبر دستی وہ کسی کو دین سے پھیر دیں یا اسے قتل کر دیں۔پس یہی زمانہ جبکہ لوگوں کے ہاتھ سے تلوار چھین لی گئی ہے اور صرف مونہہ کی لڑائی رہ گئی ہے وہ زمانہ ہو سکتا ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اور آنحضرت ا کا زمانہ تو وہ تھا کہ تلواروں سے مسلمانوں کو بھیڑ اور بکریوں کی طرح ذبح کیا گیا۔اور عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر ان کو شہید کیا گیا۔پس وہ زمانہ جبکہ اصل کام تلوار کر رہی تھی اور دلائل و براہین کا استعمال مخالفین اسلام جانتے ہی نہ تھے وہ زمانہ نہیں ہو سکتا جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے اسلام کو مٹانا چاہیں گے بلکہ وہ زمانہ یہی ہے کہ گو اس وقت بھی مخالفین سلسلہ جہاں تک ہو سکے احمدیوں کو دکھ دینے سے باز نہیں آتے۔لیکن ان کا زیادہ زور گالیوں اور فتوؤں پر ہی ہے اور ہاتھ چلانے کی ان کو اس قدر طاقت نہیں جس قدر کہ پہلے زمانوں میں ہوا کرتی تھی۔وَاللهُ مُتِمُّ نُورِ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ۔اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر پانچویں دلیل کے چھوڑے گا گو کہ کفار ناپسند ہی کریں۔یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے کیونکہ اس میں بتا دیا گیا ہے کہ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے اور گو قرآن کریم سے ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم اللہ کے ہاتھ پر شریعت کامل کر دی گئی مگر اتمام نور آپ کے وقت میں معلوم نہیں ہو تا بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہو گا۔اور رسول کریم نے کے وقت میں اسکی بنیاد ڈالی گئی تھی۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ وہ امت کس طرح گمراہ ہو سکتی ہے جس کے ابتداء میں میں اور آخر میں مسیح ہے (کنز العمال فی سنن الاقوال والا فعال كتاب القيامة من قسم الاقوال نزول عيسى على نبينا عليه الصلوة والسلام جلد ، صفحه ۲۰۲ مطبوعه ۱۳۱۳ھ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنان اسلام کے حملوں )