انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 93

انوار العلوم جلد ۳۰ ۹۳ انوار خلافت صفات کے آیا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُشنى ( الحشر : ۲۵) یعنی سب اچھے نام خدا تعالی کے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ اسم ذات تو اللہ تعالیٰ کا ایک ہی ہے یعنی اللہ ۔ باقی تمام صفاتی نام ہیں نہ کہ ذاتی۔ پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اسم بمعنی صفت بھی آتا ہے بلکہ قرآن کریم میں تو صفات الہیہ کا لفظ ہی نہیں ملتا۔ سب صفات کو اسماء ہی کہا گیا ہے اور جبکہ اسم بمعنی صفت بھی استعمال ہوتا ہے تو حدیث کے معنی کرنے میں ہمیں کوئی مشکل نہیں رہتی۔ اس میں آنحضرت ا نے اپنی صفات گنوائی ہیں کہ میری اتنی صفات ہیں۔ میں محمد ہوں یعنی خدا نے میری تعریف کی ہے میں احمد ہوں کہ مجھ سے زیادہ خدا تعالٰی کی تعریف کسی اور شخص نے بیان نہیں کی۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کفر مٹانا ہے۔ میں حاشر ہوں کہ میرے ذریعہ سے ایک حشر برپا ہو گا۔ میں عاقب ہوں کہ میرے بعد اور کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔ اور اگر اس حدیث کے ماتحت رسول کریم ﷺ کا نام احمد رکھا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کا نام مالی بھی تھا اور حاشر بھی تھا اور عاقب بھی تھا۔ حالانکہ سب مسلمان تیرہ سو سال سے متواتر اس بات کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ ماحی اور عاقب اور حاشر آپ کی صفات تھیں نام نہ تھے ۔ پس جبکہ ایک ہی لفظ پانچوں ناموں کے لفظ کے لئے آیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک جگہ اس کے معنی نام لئے جائیں اور ایک دوسرے متعلق اس لفظ کے معنی صفت لئے جائیں۔ غرض اس جگہ اسماء سے مراد نام لئے جائیں تو پانچوں نام قرار دینے پڑیں گے جو کہ بالبداہت غلط ہے۔ اور اگر صفت لئے جائیں تو اس حدیث سے اس قدر ثابت ہو گا کہ آنحضرت اللہ کی صفت احمد بھی تھی اور اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں بلکہ انکار کرنے والا مومن ہی نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص اس حدیث سے یہ استدلال کرے کہ رسول کریم ال نے محمد واحمد کی تو تشریح نہیں کی اور دوسرے تینوں ناموں کی تشریح کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں آپ کے نام ہیں اور دوسری تین آپ کی صفات ہیں کیونکہ تبھی ان کے معنی کر دیئے۔ لیکن یہ استدلال بھی درست نہیں کیونکہ اول تو یہ دلیل ہی غلط ہے کہ جس کی تشریح نہ کی جائے وہ ضرور نام ہوتا ہے۔ بلکہ تشریح صرف اس کی کی جاتی ہے جس کی نسبت خیال ہو کہ لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھیں گے۔ دوسرے ایک اور روایت اس دلیل کو بھی رد کر دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابو موسی اشعری روایت کرتے ہیں کہ سَمًّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ