انوارالعلوم (جلد 3) — Page 92
انوار العلوم جلد ۳۰ ۹۲ اور اگر اس کے معنی احمد کے مطابق بھی فرض کر لئے جائیں تو کیا رسول کریم اپنی صفات میں احمد نہ تھے۔کیا کوئی اس کا انکار کرتا ہے بلکہ انجیل میں فارقلیط کا نام آنا ہی دلالت کرتا ہے کہ یہاں صفت مراد ہے کیونکہ ناموں کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ہاں صفات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔پس اگر اس پیشگوئی میں تسلیم کیا جائے کہ آپ کی صفت احمدیت کی طرف اشارہ ہے تو یہ کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ فارقلیط والی پیشگوئی میں اسمه احمد والی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیشگوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔شاید بعض لوگ میرے مقابلہ میں بخاری کی حدیث پیش کریں۔عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ۔سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِى أَسْمَاءَ أَنَا مُحَمَّدُ وَ أَنَا أَحْمَدُ وَ أَنَا۔الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو الله بن الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلى قَدَمَى و أنَا الْعَاقِبُ وَ الْعَاقِبُ الَّذِى لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيُّ - (مشكوة كتاب الأداب باب اسماء النبي و صفاته) نحضرت لا فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں میرا نام محمد ہے میرا نام احمد ہے میرا نام ماحی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔میرا نام حاشر ہے کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میرا نام عاقب ہے اور عاقب کے معنی ہیں وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔غیر مبائعین کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسا ایک آریہ کے کہ قرآن میں چونکہ خدا کی نسبت مکر کرنے والا آیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا خدا مکار ہے۔چونکہ آریہ نہیں جانتے کہ مکر کا لفظ اگر اردو میں استعمال ہو تو برے معنی لئے جاتے ہیں اور عربی میں برے معنوں میں نہیں آتا اس لئے وہ اس کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔حالانکہ عربی میں مکر کے معنی ہیں تدبیر کرنا اور چونکہ قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے مکر کے وہی معنی کرنے چاہئیں جو عربی زبان میں مستعمل ہوتے ہیں نہ کہ اردو کے معنی۔یہی بات یہاں ہے۔ان لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس حدیث میں لفظ اسماء کا آیا ہے۔اردو میں چونکہ اسم نام کو ہی کہتے ہیں اس لئے انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ رسول کریم کے یہ سب نام ہیں حالانکہ عربی میں اسم بمعنی صفت بھی اور اسم بمعنی نام بھی آتا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جب اسم کے دو معنی ہیں تو ان دو معنوں میں سے یہاں کون سے لگائے جائیں۔قرآن کریم میں اسم بمعنی