انوارالعلوم (جلد 3) — Page 85
العلوم جلد ۳۰ AA یہ کہیں کہ رسول اللہ میں احمد کی صفت نہیں پائی جاتی تو یہ آپ کی ہتک ہے لیکن یہ کہنا کہ آپ کا نام احمد نہیں ہرگز آپ کی ہتک کرنا نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ایک امر واقعہ کہلائے گا۔پس جبکہ نام فضیلت کا ذریعہ نہیں ہو تا بلکہ کام فضیلت کا ذریعہ ہوتے ہیں تو پھر آپ کا نام احمد نہ ماننے میں آپ کی ہتک کس طرح ہو سکتی ہے۔اگر رسول کریم ﷺ کا نام محمد بھی نہ ہو تا بلکہ کچھ اور ہوتا تو کیا اس میں آپ کی ہتک ہو جاتی اور کیا آپ کی برکات میں کمی آجاتی۔آپ کا نام جو کچھ بھی ہو تا رہی بابرکت ہوتا اور اس نام پر دنیا اسی طرح فدا ہوتی جس طرح اب محمد نام پر فدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ آپ کے نام پر فدا نہیں ہوتے بلکہ در حقیقت آپ کے کام پر خدا ہوتے ہیں۔پس اگر یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ا کا نام احمد نہیں ہاں احمد کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں تو پھر نادان ہے وہ جو یہ کہے کہ ایسا کہنے سے آپ کی ہتک ہوتی ہے۔قرآن کریم میں جو احمد کی خبر دی گئی ہے اس کے متعلق میں نے وہ آیات پڑھ دی ہیں جن میں احمد کا ذکر ہے اور اب میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بتاتا ہوں کہ ان آیات میں احمد کا اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہیں اور آنحضرت ا صرف صفت احمدیت کی وجہ سے اس کے مصداق ہیں ورنہ جس احمد نام کے انسان کے متعلق خبر ہے وہ حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ آنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَانَهُمْ بُنْيَانُ مرصوص ٥ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَقَدْ تَعْلَمُونَ انّى رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ ، فَلَما اغوا اذا الله قُلُوبَهُمْ ، وَ اللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ (است زَ اَزَاغَ ۲ تا ۹ ( ترجمہ ) تسبیح کرتی ہے اللہ کے لئے ہر ایک وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔اے مومنو! کیوں وہ بات کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔یہ بات اللہ کو بڑی ہی ناپسند ہے کہ دوسروں کو وہ کچھ کہو جو تم خود نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو کہ اے قوم کیوں مجھے ایذاء دیتے ہو اور تحقیق تم یہ بات جانتے ہو کہ میں خدا کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔پس جب انہوں نے کبھی کی تو خدا نے ان کے دلوں کو سچ کر دیا اور اللہ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔