انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 58

العلوم ۵۸ پیغام مسیح موعود گر جا میں کیوں حاضر ہوا جاتا ہے۔لیکن قرآن شریف میں خدا تعالٰی نے ہر ایک حکم کی وجہ بتا دی ہوئی ہے کہ نماز اس لئے پڑھو روزہ اس لئے رکھو ، شراب اس لئے نہ پیو ، زنا اس لئے نہ کرو ، جوا اس لئے نہ کھیلو۔پھر نبی کا یہ کام ہے ویز کیهِمُ ان کے اعمال کو پاک کرتا اور خیالات کو بلند کرتا ہے ان میں وسعت حوصلہ پیدا کرتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کام تو یہ تھا کہ ایک دیندار جماعت پیدا کر دے۔اور ایک اور کام تھا جو آپ سے نہیں بلکہ آپ کی پیدا کردہ جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔خدا تعالیٰ کے مرسلین نہ صرف ایک ایسی جماعت تیار کرتے ہیں جو ہر طرح سے اعلیٰ اور اکمل ہو بلکہ ایسی بھی ہو جو دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائے۔چنانچہ سب انبیاء نے ایسا کیا ہے۔اور ایسی جماعتیں تیار کر گئے ہیں۔جو دنیا میں صلح اور امن پھیلانے کا باعث ہوتی ہے۔اور جو بیج ان نبیوں نے بویا تھا۔اس کو پانی دے کر انہوں نے ایک بڑے درخت تک پہنچایا ہے۔ہمارے آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی امت کو مختلف اقوام میں صلح و آشتی کا نمونہ دکھانے کے لئے مدینہ میں غیر اقوام سے معاہدات کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسی غرض کے لئے پیغام صلح ایک رسالہ لکھا۔جو لاہور میں ہی پڑھا گیا جس میں غیر مذاہب کے لوگوں کو اس طرف بلایا گیا۔کہ ہم آپ کے نبیوں کو مانتے ہیں اور برا نہیں کہتے اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ ہمارے آنحضرت ﷺ کو سچا سمجھیں۔اور برا نہ کہیں آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس طرح کرو تو صلح ہو سکتی ہے۔کیونکہ جھگڑے اور فساد عقائد کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ بد گوئی اور گالیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اسی طرح آپ نے مناظرات کے متعلق یہ تجویز پیش کی کہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں نہ کہ ایک دوسرے پر حملے کئے جایا کریں آپ کا یہ پیغام آپ کی جماعت کے لئے خضر راہ کے طور پر ہے اور اس کے لئے آپ نے ایک نظام مقرر فرما دیا کہ اس طریق پر چل کر دنیا میں صلح دامن قائم کرو۔بے شک آپ فوت ہو گئے ہیں لیکن آپ کا کام اسی قدر تھا جو آپ نے کیا اور ضرور تھا کہ دوسرے نبیوں کی طرح آپ بھی ایک راستہ دکھا کر رخصت ہو جاتے اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس راستہ پر چل کر دنیا کو صلح کی طرف لائیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ان تدابیر پر عمل کیا جائے جو آپ نے بتائی ہیں تو دنیا میں بالکل امن قائم ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں نرمی اور سلوک سے کام کیا جاتا ہے وہاں صلح اور آشتی ہوتی ہے لیکن جہاں سختی کو استعمال کیا جائے وہاں جدائی ہو جاتی ہے۔خواہ آپس میں کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو لیکن اگر سختی ہو تو دشمنی اور رنج پیدا ہو جاتا