انوارالعلوم (جلد 3) — Page 52
دم جلد - ۵۲ پیغام صحیح موعود پانی سردی کی وجہ سے یخ ہو رہا تھا۔اسی شاگرد کو چھلانگ مارنے کے لئے کہا۔اس نے انکار کر دیا اور کہا کیا آپ جانتے نہیں کہ سردی کا موسم ہے۔پانی میں چھلانگ مارنے سے سن ہو جاؤں گا۔آج آپ کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔بو علی نے کہا۔احمق اسی عقیدت پر تو نے کہا تھا کہ اگر تو نبوت کا دعوی کرتا تو درست ہوتا۔کیا تو نہیں جانتا کہ آنحضرت ا ل نے ایک کو نہیں دو کو نہیں بلکہ ہزاروں کو حکم دیا کہ اپنی جانوں کو لڑا دو۔تو وہ اپنے بیوی بچے عزیز و اقارب مال و اموال سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے اور جان جانے کی ذرا پرواہ نہ کی۔بے تنخواہ کی پولیس، فوج اور مجسٹریٹ بن گئے۔اپنا خرچ کرتے اور دنیا کی حفاظت کرتے اپنی جانیں قربان کرتے اور دنیا کو ہلاک ہونے سے بچاتے۔پس نبیوں کا کام ثابت کرتا ہے کہ واقعہ میں وہ نبی ہیں۔فلاسفر اصلاح خلق کا دعویٰ تو کر دیتے ہیں مگر ان کے کام میں کامیابی نہیں ہوتی بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں لیکن نبی دنیا کی حفاظت اور اصلاح کے لئے آیا کرتا ہے۔اور شریعت بھی اسی غرض کے پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔لیکن شریعت کی غرض کتنے افسوس کی بات ہے کہ جنہوں نے اس پر غور نہیں کیا۔وہ کہتے ہیں شریعت لعنت ہے انہیں یہ غلطی لگی ہے کہ انسان چونکہ کمزور ہے اس لئے شریعت پر عمل نہیں کر سکتا۔پس یہ لعنت ہے لیکن انہوں نے سمجھا نہیں۔شریعت گائڈ ایک اور ہدایت نامہ کے طور پر ہوتی ہے اور نبی ہادی اور راہ نما ہوتا ہے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہدایت نامہ یا گائڈ ایک کبھی گمراہی کا باعث نہیں ہو سکتی۔کیا اگر کسی کتاب میں لاہور آنے کا راستہ لکھا ہو ، عجائب گھر لارنس ہال ، چڑیا گھر وغیرہ جگہوں کے پتے درج ہوں۔یا طب کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں زہر نہ کھانا اور اگر فلاں زہر کوئی کھا لے تو اس کے لئے یہ تریاق ہے وغیرہ وغیرہ۔ایسی کتابیں سکھ اور آرام کا موجب ہوا کرتی ہیں یا تکلیف کا۔اسی طرح شریعت ہے کہ جو تکلیفیں اور مصیبتیں لوگوں پر آتی ہیں اس میں ان سے بچنے کے طریق بتائے جاتے ہیں اور جو آ ہوں ان کو دور کرنے کی تدابیر سمجھائی جاتی ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُ اللهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ ، وَالله عَليم قف حَكِيمُ ، وَ اللهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا (النساء : ۲۷-۲۸) اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ تمہارے لئے خوب کھول کر بیان کر دے کہ فلاں کام کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے اور فلاں کرو گے تو نقصان۔تم سے پہلے بھی کچھ