انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 585

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۸۵ ترقی اسلام کے بارہ میں ارشاد سو روپیہ فی کس دیا تھا اور اس طرح ساڑھے پانچ ہزار روپیہ کے قریب جمع ہو گیا تھا۔مگر اب میں چاہتا ہوں کہ ذی استطاعت احباب کے علاوہ جماعت کے دوسرے لوگ بھی اس تحریک میں حصہ لیں۔اور اس کے لئے میری یہ تجویز ہے کہ تمام جماعت کے لوگ جن تک یہ میرا اعلان کسی ذریعہ سے پہنچے علاوہ صدر انجمن احمدیہ اور ترقی اسلام کے ماہوار چندوں کے اپنے اخلاص اور خاص حالات کے لحاظ سے اپنی ایک ماہ کی آمدنی یا اسکا نصف یا اس کا تیسرا حصہ یا کم از کم اس کا چوتھا حصہ اس خاص چندہ میں دیں۔ہاں سہولت کے لئے یہ کر سکتے ہیں کہ جس قدر چندہ وہ دینا چاہیں اس کو تین اقساط میں تین ماہ کے اندر ادا کر دیں۔تمام جماعتوں کے سیکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ میرے اس اعلان کو اپنی اپنی جماعتوں کو سنا کر اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔اور اگر کسی جگہ باقاعدہ انجمنیں نہیں یا سیکرٹری ست ہے تو وہاں ہر ایک مخلص کا فرض ہے کہ وہ اپنے طور پر اس تحریک کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔اور اللہ تعالیٰ سے جزائے نیک حاصل کرے۔جہاں انجمن بھی ہے اور سیکرٹری بھی ہے وہاں بھی جماعت کے مخلص احباب کو سیکرٹری کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنی چاہئے۔مرکزی طور پر اس تحریک پر عمل کرانے کے لئے میں نے ماسٹر عبد المغنی صاحب سیکرٹری فنانشل کمیٹی کو مقرر کیا ہے۔وہ تمام جماعتوں سے اس کے متعلق خط و کتابت کریں گے۔تمام احمدی احباب ان کے کام کو آسان کرنے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ آج کل خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ اس کے دین کی مدد کی جاوے۔وَاخِرُ دَعُو سَنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار مرزا محمود احمد شملہ ۱۲۔ستمبر ۱۹۱۷ء۔