انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 530

۵۳۰ ذکرائی ہوئے اس قسم کی حرکات سے بکلی بچنا چاہئے۔قیام اور رکوع اور سجدہ کی حالت میں چستی کی شکل رکھنی چاہئے۔یعنی جب انیسواں طریق کھڑا ہو تو مضبوطی اور ہوشیاری سے کھڑا ہو۔یہ نہیں کہ ایک ٹانگ پر بوجھ ڈال کر دوسری کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے۔کیونکہ جب ستی اختیار کی جاتی ہے تو دشمن قبضہ پالیتا ہے۔پھر ظاہری چستی کا اثر باطنی چستی پر بھی پڑتا ہے اسی لئے رسول کریم ال نے حکم دیا ہے کہ تمام حرکات میں چست رہنا چاہئے۔بعض صوفیاء نے اس میں اسراف سے کام لیا ہے۔اگر چہ میں اسراف کو بیسواں طریق پسند نہیں کرتا لیکن مؤمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔جنید بغدادی ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں۔شبلی ان کے شاگر د تھے جو بہت اخلاص اور خشیت اللہ رکھتے تھے۔آپ ایک صوبہ کے گورنر تھے ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں جو آئے تو ایک بڑے سردار کو جس نے کوئی بہت بڑی خدمت کی تھی ان کے سامنے انعام کے طور پر خلعت دیا گیا اس سردار کو کچھ ریزش تھی اس لئے اس کے ناک سے پانی بہہ گیا۔رومال لانا بھول گیا تھا۔بادشاہ سے نظر بچا کر اس خلعت سے اس نے ناک پونچھ لی۔بادشاہ نے دیکھ لیا اور سخت غصے ہو کر کہا ہماری خلعت کی یہی قدر کی ہے۔شبلی کے دل میں چونکہ خشیت الہی تھی اس لئے ان کے قلب پر اس واقعہ کا ایسا اثر ہوا کہ بیہوش ہو گئے اور جب ہوش آیا تو کہا کہ میں گورنری سے استعفیٰ دیتا ہوں۔بادشاہ نے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ نے اس سردار کو خلعت دی تھی جس کی اس نے بے قدری کی تو آپ اس پر اس قدر ناراض ہوئے ہیں۔لیکن خدا نے جو مجھے بے شمار نعمتیں دی ہیں اگر میں ان کی ناقدری کروں گا اور ان کا شکریہ ادا نہ کروں گا تو مجھے کس قدر سزاملے گی۔اس کے بعد آپ جنینڈ کے پاس گئے اور کہا کہ مجھے اپنا شاگرد بنا لیجئے۔انہوں نے کہا میں تجھے شاگرد نہیں بناتا تو گورنر رہا ہے۔اور اس حالت میں تو نے مخلوق خدا پر کئی قسم کے ظلم کئے ہوں گے۔انہوں نے کہا اس کا کوئی علاج بھی ہے۔جنید نے کہا کہ جس علاقہ کے تم گورنر رہے ہو اس میں جاؤ اور ہر گھر میں جاکر کہو کہ اگر مجھ سے کسی پر کوئی ظلم ہوا ہے تو وہ بدلہ لے لے۔چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔آپ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ جب نفل پڑھتے اور جسم میں کسی قسم کی ستی پاتے یا دل میں ایسے خیالات آتے جو ان کو دوسری طرف متوجہ کرنا چاہتے تو سوٹی لے کر اپنے جسم کو پیٹنا