انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 520

رالعلوم جلد ۳ ۵۲۰ ذکر الهی رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اذان اس لئے دی جاتی ہے کہ شیطان کو بھگا دے اور حدیث میں آیا ہے کہ جب اذان ہوتی ہے تو شیطان دور بھاگ جاتا ہے۔پس جب کوئی اس بات کو مد نظر رکھتا ہے کہ اذان میں جو مضمون بیان کیا جاتا ہے اس کی یہ غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور جلال کی طرف توجہ ہو تو اسے اس کی حکمت بھی یاد آجائے گی۔جن لوگوں نے آج یہ حکمت سن لی ہے وہ جب اذان سنیں گے تو یہ بات یاد آجائے گی اور جب یاد آئے گی تو اثر بھی ہو گا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب ایک خیال آئے تو دوسرے خیالات دور ہو جاتے ہیں۔پس جب خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے خیالات پیدا ہوں گے۔تو دوسرے خیالات ہٹ جائیں گے اور توجہ قائم ہو جائے گی۔اقامت ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی عظمت اور شوکت کی طرف متوجہ کرتی پانچواں طریق ہے اور اذان کے متعلق جو حکمت بیان کی گئی ہے وہی اس میں بھی ہے۔اقامت کے متعلق بھی رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کی آواز سے شیطان بھاگ جاتا ہے (مسلم کتاب الصلوۃ باب فضل الاذان و هرب الشيطان عند سماعه، اور اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کے ذریعہ سے وساوس دور ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔صف بندی ہے۔جسمانی با قاعدگی خیالات میں بھی باقاعدگی پیدا کر دیتی ہے اور چھٹا طریں انہیں منتشر نہیں ہونے دیتی۔اور جب جسمانی طور پر قطار بندی کی جاتی ہے تو اندرونی جوش بھی ایک سلک میں منسلک ہو جاتے ہیں۔پھر وہ شکل کیا ہی ہیبت ناک ہوتی ہے کہ سب لوگ خاموش اور چپ چاپ بادشاہوں کے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ صفوں کو درست کرد ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے (مسلم کتاب الصلوۃ باب تسوية الصفوف) درست صف کا کیا اثر ہوتا ہے۔یہی کہ ظاہر کا اثر چونکہ باطن پر ہوتا ہے۔اس لئے اگر ظاہری طور پر باقاعدگی نہ ہو تو باطنی با قاعدگی میں بھی فرق آجاتا ہے۔نماز پڑھنے کی نیت ہے۔کیونکہ جب انسان اپنے نفس کو بتا دیتا ہے کہ اس ساتواں طریق کام کے لئے میں کھڑا ہونے لگا ہوں تو توجہ اس کی طرف ہی رہتی ہے۔نیت سے یہ مراد نہیں کہ کہا جائے کہ پیچھے اس امام کے اتنی رکعت نماز منه طرف کعبہ شریف و غیره وغیرہ بلکہ ذہن میں ہی نماز پڑھنے کی نیت کرنی چاہئے۔ایک آدمی کی نسبت کہتے ہیں کہ اسے