انوارالعلوم (جلد 3) — Page 486
ر العلوم جلد ۳ ۴۸۶ ذکرائی ذکر اللہ کہتے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھنا اور ان کو زبان سے بار بار یاد کرنا اور ان کا دل سے اقرار کرنا اور اس کی طاقتوں اور قدرتوں کا معائنہ کرنا ذکر اللہ ہے۔مضمون کتنا اہم اور ضروری ہے۔اس کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ - الدهر : مضمون کی اہمیت کہوں گا کہ بڑا ہی اہم ہے۔شاید کوئی خیال کرے کہ چونکہ اس پر میں نے لیکچر دینا شروع کیا ہے اس لئے اس کو بڑا اہم کہتا ہوں۔لیکن میں اس لئے نہیں کہتا۔بلکہ اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اسے بڑا کہا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَذِكْرُ الله اكبر - (العنکبوت : (۴۶) کہ اللہ کا ذکر تمام امور سے بڑا اور تمام عبادتوں سے بڑھ کر ہے۔پس جب خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ ذکر اللہ سب سے بڑا ہے۔تو یہ میرا قول نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہے کہ یہ مضمون سب سے بڑا اور اہم ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ اگر یہ مضمون سب سے بڑا اور اہم ہے تو اس کی طرف سب سے زیادہ توجہ کرنے کا حکم بھی چاہئے۔اس کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں۔تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی کثرت سے اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ لوگ اللہ کے ذکر کی طرف توجہ کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَ اصيلاً۔اے میرے بندے! اپنے رب کو صبح اور شام یاد کیا کر۔پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو۔اس کو چاروں طرف سے ملائکہ گھیر لیتے اور خدا کی رحمت نازل کرتے ہیں۔میں نے یہ مضمون اس لئے بھی سالانہ جلسہ پر بیان کرنے کے لئے رکھا کہ جب کئی ہزار لوگ دور دراز سے جمع ہوں گے تو ان سب کے سامنے بیان کروں گا تاکہ سب پر فرشتے رحمت اور برکت نازل کریں۔پھر وہ لوگ جب اپنے گھروں کو جائیں گے تو یہ باتیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔اور جو لوگ یہاں نہیں آئے ان کو سنا دیں گے۔اور اس طرح ساری جماعت میں برکت پھیل جائے گی۔پس میں نے اس غرض کے لئے بھی آج کا دن اس مضمون کے بیان کرنے کے لئے چنا۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو اس کے ارد گرد فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور برکت لاکر بیٹھنے والوں پر ڈالتے ہیں۔پس جب ذکر الہی ایک ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ اس کے سننے کے لئے فرشتے بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور سننے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کیسی اہم چیز ہے۔اور پھر جو فرشتوں کا استاد ہو گا اس کی وہ کس قدر قدر