انوارالعلوم (جلد 3) — Page 484
۴۸۴ ذکرالی دیئے ہیں۔اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ میں نے صرف اس لئے وہ طریق نہیں بتائے تھے کہ مجھے اپنی جماعت سے محبت ہے۔اس میں شک نہیں کہ مجھے محبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ اور کسی کو اپنے متعلقین سے بھی کیا ہوگی۔مگر میں نے وہ طریق اس لئے بھی بتائے کہ میں جانتا ہوں کہ وہ خدا جس نے مجھے وہ بتائے تھے ایسا خدا ہے کہ اس کا دیا ہوا مال جس قدر زیادہ خرچ کیا جائے اسی قدر زیادہ بڑھتا اور بڑے بڑے انعامات کا باعث بنتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے جس قدر طریق جتائے تھے ان کو بتا کر اپنا گھر خالی نہیں کیا بلکہ اور زیادہ بھر لیا تھا۔پھر مجھے یقین تھا کہ ان کے بتانے سے مجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔کیونکہ علم کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خرچ کرنے سے گھٹے۔بلکہ ایسی چیز ہے کہ جو خرچ کرنے سے بڑھتی ہے لیکن اگر مجھے یہ بھی یقین ہوتا تو جس طرح صحابہ کرام کہتے ہیں کہ اگر ہماری گردن پر تلوار رکھ دی جائے اور ہمیں رسول کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یاد ہو جو کسی کے سامنے بیان نہ کی جاچکی ہو۔تو پیشتر اس کے کہ تلوار ہماری گردن کو کاٹے وہ بیان کر دیں گے۔(بخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل ) اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ اگر بیان کرتے کرتے تمام طریق ختم ہو جاتے تو بھی میں ضرور سب کو بیان کر دیتا۔چنانچہ اس وقت جس قدر ہو سکے میں نے بیان کئے۔اور میرے دل میں یونہی خیال گذرا کہ دعا کے متعلق جس قدر طریق تھے میں نے سارے کے سارے بیان کر دیئے ہیں۔لیکن جب میں نماز کے بعد گھر آیا اور دعا کرنے لگا تو خدا تعالٰی نے اتنے طریق مجھے سمجھائے جو پہلے کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آئے تھے۔اب بھی میں جس مضمون پر بولنا چاہتا ہوں اس کے متعلق جہاں تک مجھ سے ہو سکا۔نوٹ لکھ کر لایا تھا۔لیکن راستہ میں ہی آتے آتے خدا تعالیٰ نے اور بہت سی باتیں سوجھا دیں۔تو میں نے دعا کے طریق بتائے تھے جو بہت ضروری تھے۔لیکن اب جو کچھ بیان کرنا اس مضمون پر عمل کرنے سے دعا خود بخود مقبول ہوگی چاہتا ہوں وہ طریق دعا سے بھی زیادہ ضروری ہے۔اگر اس کو آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس پر عمل کریں تو آپ کی دعا خود بخود قبول ہو جائے گی۔پچھلے سال اسی مضمون پر گذشتہ سال اس مضمون کو بیان نہ کر سکنے میں حکمت بیان کرنے کا میرا ارادہ تھا