انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 464

ر العلوم جلد ۳ ۴۶۴ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں دس کوس جانا ہوتا ہے وہ اپنے سفر کے لئے کم تیاری کرتا ہے۔لیکن جس کو دور دراز جانا ہو وہ بہت زیادہ کرتا ہے۔پھر دیکھو اگر کبھی سرحد پر ضرورت پڑے۔تو ہماری گورنمنٹ چند سو آدمیوں کو بھیج دیتی ہے اور انہیں کو دیکھ کر فتنہ پرداز بھاگ جاتے ہیں۔مگر آج جبکہ جرمن وغیرہ کے ساتھ مقابلہ ہے تو کس قدر تیاری کی جاتی ہے۔اور برٹش حکومت کے دانا کس قدر زور و شور سے سامان جنگ تیار کر رہے ہیں۔تمام انگلینڈ ایک کارخانہ کی طرح بن گیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بڑے دشمن کے لئے بڑی تیاری کی ضرورت ہے۔پس آپ لوگ سن لیں اور خوب غور سے سن لیں کہ ہمارا مقابلہ بھی کوئی چھوٹا سا مقابلہ نہیں بلکہ بہت بڑا ہے کیونکہ اس زمانہ میں اس شیطان کا آخری حملہ ہے جس نے حضرت نوح ، حضرت موسی حضرت عیسی اور آنحضرت ا کے مقابلہ کے لئے اپنا لشکر بھیجا تھا۔اب وہ پوری تیاری اور مکمل سامان کے ساتھ حملہ آور ہوا ہے۔اور یہ بات دل میں رکھ کر آیا ہے کہ یا مار دوں گا یا مرجاؤں گا۔اس لئے یہ ایک ایسی جنگ ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔روحانی اور جسمانی سلسلے ایک ہی طرح چلتے ہیں۔جس طرح یہ موجودہ جسمانی جنگ اس قسم کی ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسی نہیں ہوئی۔اس طرح ہماری روحانی جنگ بھی ایسی ہی ہے جس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں مل سکتی۔آپ کی ایک مٹھی بھر جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جاؤ اور جاکر شیطان اور اسکے لشکر کو ہلاک کرو۔یعنی لوگوں کے عقائد کو درست کرو اور اپنے ان بھائیوں کو جو شیطان کی قید میں پھنسے ہوئے اور اس کی فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں ان کو چھڑاؤ اور اپنے ساتھ شامل کرو۔تم لوگوں نے چونکہ اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دیا ہے اس لئے تمہیں خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی رہائی کے لئے بھیجا ہے جو شیطان کے ہاتھ میں بک چکے ہیں۔پس غور کرلو۔اس کے لئے تمہیں کس قدر تیاری کرنی چاہئے۔اس کام میں تمہیں اپنے رات دن صرف کرنے پڑیں گے ، اپنی عزت و آبرو قربان کرنی پڑے گی اپنا آرام و آسائش چھوڑنی پڑے گی اور اپنا مال اور جان دینی پڑے گی اور جب تک یہ سب مراحل طے نہ کرد گے تمہیں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ شیطان کا یہ آخری حملہ اور موجودہ جنگ کی طرح بڑا خطرناک حملہ ہے۔پہلے زمانہ میں جو لڑائیاں ہوتی تھیں ان میں بہت جلدی فیصلہ ہو جاتا تھا۔نپولین کی لڑائیوں کے حالات پڑھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چند گھنٹہ کے عرصہ میں ان کا فیصلہ ہو جاتا تھا۔لیکن آج کیسی خطرناک جنگ ہو رہی ہے۔باوجود اس کے کہ جرمن کے مقابلہ