انوارالعلوم (جلد 3) — Page 463
1 انوار العلوم جلد ٣٠ ۲۹۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں اسی پیشگوئی میں ہماری صداقت کا بھی ثبوت ہے۔جو کہ آنحضرت ا کی زبانی ہے۔یہ پیشگوئی دو طرح پر آئی ہے ایک میں رَجُل کا لفظ آیا ہے اور دوسری میں دجال کا اب ہم کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب ایمان اٹھ جائے گا اور عقائد بگڑ جائیں گے تو خدا تعالی ایک فارسی النسل انسان کو کھڑا کرے گا۔جو اگر ایمان آسمان پر بھی چلا جائے گا تو واپس لے آئے گا۔اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایسا شخص ایک نہیں ہو گا بلکہ کئی ہوں گے۔اب یہ بات تو سب لوگ مانتے ہیں کہ اس زمانہ کی طرح پہلے کبھی ایمان ثریا پر نہیں گیا اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو یقینی طور پر دعوی کر سکے کہ میں فارسی النسل ہوں۔مگر حضرت مسیح موعود کو الہام : کے ذریعہ بتایا گیا ہے اور صرف آپ ہی نے فارسی النسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔پس ہم کہتے ہیں تمام دنیا پر اس وقت وہ کون سا خاندان ہے۔جو یقینی طور پر کہتا ہے کہ میں فارسی النسل ہوں۔ہمارے سوا کوئی بھی نہیں۔اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایمان کے لانے والے کئی ایک ہوں گے۔اس لئے معلوم ہوا کہ ہمارے خاندان کے دوسرے لوگ بھی اس پیشگوئی میں شامل ہیں۔موجودہ اختلاف کے زمانہ میں اگر یہ ہو تا کہ حضرت مسیح موعود کے لڑکوں میں سے بعض ایک طرف ہوتے اور بعض دوسری طرف تو غیر مبائعین کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی حق پر ہیں کیونکہ ہم بھی ابنائے فارس میں سے ہیں۔لیکن خدا کی منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود کی تمام اولاد ہماری طرف ہی ہے۔اور اس کے متعلق رسول کریم ای نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ایمان کو قائم کرنے والے ہوں گے نہ کہ نقصان پہنچانے والے اس سے معلوم ہوا کہ ہم حق پر ہیں۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔لیکن میں نے آپ لوگوں کو جو کچھ سنایا ہے اس سے آپ نے معلوم کر لیا ہو گا کہ ہمارا کام کوئی چھوٹا سا کام نہیں ہے۔اگر کسی ایک آدمی کے یا ایک شہر یا ایک علاقہ کے لوگوں کے عقائد خراب ہوتے تو کوئی بڑی بات نہ تھی۔لیکن یہاں تو آدے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کی نسبت، فرشتوں کی نسبت، قرآن کریم کی نسبت آنحضرت کی نسبت نبیوں کی نسبت حشر و نشر کی نسبت اور قیامت کی نسبت سب عقا ئدہ بگڑے ہوئے ہیں۔اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے ایمان میں تزلزل آچکا ہے اور ان کو درست کرنا ہمارا فرض ہے۔کیا اتنے بڑے کام کے ہوتے ہوئے ہم سستی اور غفلت سے کام لے سکتے ہیں۔ہرگز نہیں۔بلکہ جتنا بڑا کام ہے اتنی ہی زیادہ ہمیں تیاری کرنی چاہئے۔دیکھو جس آدمی کو