انوارالعلوم (جلد 3) — Page 419
N دم جلد ۴۱۹ متفرق بھی دعا کرتا ہوں کہ اسی عقیدہ پر خدا تعالیٰ مجھے وفات دے۔باقی رہا کفر و اسلام کا مسئلہ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ میرے نزدیک وہ - مسئلہ کفر و اسلام لوگ جنہوں نے مسیح موعود کا نام سن کر آپ کو قبول کیا اور وہ لوگ جنہوں نے سناہی نہیں برابر ہیں۔لیکن یہ غلط ہے۔مؤمن ماننے والے کو کہتے ہیں اور کافر انکار کرنے والے کو یہ دو گروہ ہیں۔آگے نہ ماننے والے کئی قسم کے ہیں وہ سب برابر نہیں ہو سکتے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ گورنمنٹ اعلان کرے کہ تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوں کچھ لوگ تو اس اعلان کو سن کر جمع ہو جائیں۔اور کچھ باوجود اعلان کے سننے کے شرارت سے جمع نہ ہوں۔اور کچھ ایسے ہوں کہ جو اعلان کی بے علمی کی وجہ سے جمع نہ ہو سکیں۔اس پر جب گورنمنٹ حکم دے گی کہ جو لوگ جمع نہیں ہوئے ان کو پکڑ کر لایا جائے۔تو ان پکڑ کر لائے ہوئے لوگوں میں ہی وہ بھی شامل ہوں گے جو لا علمی کی وجہ سے نہیں آسکے۔ہاں آگے یہ فیصلہ گورنمنٹ کرے گی کہ جو شرارت سے نہیں آئے ان کو سزا دی جائے اور جو لا علمی کی وجہ سے نہیں آئے ان کو چھوڑ دیا جائے۔اسی طرح یہ فیصلہ کرنا بھی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو نہیں مانا ان میں سے کن کو سزا دے اور کن کو چھوڑ دے۔لیکن وہ سب شامل تو نہ ماننے والوں میں ہی ہوں گے اس لئے ان کا نام بھی ایک ہی رکھا جائے گا۔ہاں خدا تعالی ظالم نہیں کہ وہ کسی کو اس لئے سزا دے کہ تم نے مسیح موعود کا نام کیوں نہیں سنا اور کیوں نہیں مانا۔پس یہ مجھ پر افتراء ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کے قبول نہ کرنے والے سب لوگوں کو ایک ہی جیسا سمجھتا ہوں۔میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں دو گروہ ہیں۔ایک مومن دوسرا کافر اس لئے جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے والے ہیں وہ مومن ہیں اور جو ایمان نہیں لائے خواہ ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی وجہ ہو وہ کافر۔ہاں جس طرح ایمان والوں کے مدارج ہیں اسی طرح ایمان نہ لانے والوں کے بھی کئی درجے ہیں۔بعض وہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود کا مقابلہ کیا اور آپ پر کفر کے فتوے لگائے۔بعض وہ جنہوں نے مقابلہ کیا مگر کم کیا۔بعض وہ جنہوں نے کچھ بھی مقابلہ نہیں کیا مگر راست باز نہ سمجھا۔بعض وہ جنہوں نے حسن ظنی سے کام لیا مگر بیعت میں شامل نہ ہوئے۔بعض وہ جن تک آپ کا نام ہی نہیں پہنچا۔ان میں خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ ایسے لوگ جنہوں نے