انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 414

دم جلد ۳۰ ۱ آپ میں جو اختلاف ہے وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ صحابہ میں ہوتا تھا۔اور پھر یہ بھی لکھا تھا کہ خدا تعالی نے آپ کا نام اولوالعزم رکھا ہے امید ہے کہ آپ مجھ سے اس اختلاف کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں گے۔انہی دنوں میں میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ مولوی محمد احسن صاحب کی نسبت خط آیا ہے کہ مرگئے ہیں۔اور مرنے کی ایک تعبیر مرتد ہونا بھی ہے۔میں نے یہ رویا لوگوں کو سنا دی تھی اور اسبات کے کئی ایک گواہ اس وقت بھی موجود ہوں گے۔پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی میرے چھوٹے بھائی میاں شریف احمد نے ایک رؤیا دیکھی تھی جو حضرت صاحب کو سنائی گئی تھی کہ ایک شخص ہے جس کا نام محمد احسن ہے اس کی قبر بازار میں بنی ہوئی ہے۔حضرت صاحب کو جب یہ خواب سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس نام کا کوئی شخص مرتد ہو جائے گا۔گلی میں قبر کے ہونے کی تعبیر مرتد یا منافق ہے۔میں نے جس رویا میں دیکھا تھا کہ ان کے مرنے کا خط آیا ہے۔اس میں میں نے یہ بات سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر کی۔اس وقت میرے آنسو نکل آئے اور میں نے کہا افسوس ان کا انجام اچھا نہ ہوا۔اگر اس رویا میں ان کے مرنے سے جسمانی مرنا مراد ہوتا تو حضرت مسیح موعود مجھے بتلاتے نہ کہ میں آپ کو اس کی خبر کرتا۔پس اس سے بھی معلوم ہوا کہ ان کا پھر جانا ہی مراد تھا۔سو مجھ پر کس قدر خدا کا فضل ہے کہ اس نے ان کے پھرنے کی قبل از وقت اطلاع دے دی تھی۔پھر میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی جو خطبہ جمعہ میں بیان کر دی تھی اور اخبار الفضل میں چھپ چکی ہے کہ مجھے دو آدمی دکھائے گئے جو مرتد ہو چکے ہیں۔اس وقت مولوی محمد احسن صاحب کے متعلق وہم و گمان بھی نہ تھا۔پس میں انسان پرست نہیں ہوں کہ کسی انسان کے پھر جانے کو خیال میں لاؤں۔بلکہ خدا پرست ہوں اور ہمیشہ سے میرا بھروسہ خدا ہی پر رہا ہے۔اس وقت جبکہ ابھی میری عمر انیس سال کی تھی اور یہ کوئی بڑی عمر نہیں عام طور پر اس عمر میں لوگ کھیلتے پھرتے ہیں۔اس وقت جب حضرت مسیح موعود فوت ہوئے تو میرے دل میں خیال آیا کہ آپ کی بہت سی پیشگوئیاں ایسی ہیں جن پر لوگوں کو ابتلاء آ سکتا ہے اور میں نے سوچا کہ اگر آپ کے بعد خدانخواستہ ارتداد کا سلسلہ شروع ہو گیا تو کیا ہوگا۔یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ میرے دل سے یہ آواز نکلی کہ اگر ساری جماعت بھی مرتد ہو جائے تو میں کچھ پرواہ نہیں