انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 349

العلوم ميلاد - ۳ ۳۴۹ سیرت مسیح موعود لئے اپنی جائداد کا نصف حصہ بخوشی خاطر دے دیا اور باقی نصف پر بھی خود قبضہ نہ کیا۔بلکہ مدت تک آپ کے رشتہ داروں ہی کے قبضہ میں رہا۔بھائی صاحب کی وفات خلق خدا کا رجوع۔دوسری شادی۔اعلان دعوی حقہ کے ڈیڑھ سال بعد آپ نے الہام الہی کے ماتحت دوسری شادی دہلی میں کی۔چونکہ براہین احمدیہ شائع ہو چکی تھی اب کوئی کوئی شخص آپ کو دیکھنے کے لئے آنے لگا تھا۔اور قادیان جو دنیا سے بالکل ایک کنارہ پر ہے مہینہ دو مہینے کے بعد کسی نہ کسی مہمان کی قیام گاہ بن جاتی تھی۔اور چونکہ لوگ براہین احمدیہ سے واقف ہوتے جاتے تھے آپ کی شہرت بڑھتی جاتی تھی۔اور یہ براہین احمدیہ ہی تھی جسے پڑھ کر وہ عظیم الشان انسان جس کی لیاقت اور علمیت کے دوست دشمن قائل تھے اور جس حلقہ میں وہ بیٹھتا تھا خواہ یورپینوں کا ہو یا دیسیوں کا اپنی لیاقت کا سکہ ان سے منوا تا تھا آپ کا عاشق و شیدا ہو گیا۔اور باوجود خود ہی ہزاروں کا معشوق ہونے کے آپ کا عاشق ہونا اس نے اپنا فخر سمجھا۔میری مراد استاذی المکرم حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سے ہے۔جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت جموں میں مہاراجہ صاحب کے خاص طبیب تھے۔انہوں نے وہاں ہی براہین احمدیہ پڑھی اور ایسے فریفتہ ہوئے کہ تادم مرگ حضرت صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔غرض براہین احمدیہ کا اثر رفتہ رفتہ بڑھنا شروع ہوا۔اور بعض لوگوں نے آپ کی خدمت میں درخوست کی کہ آپ بیعت لیں۔لیکن آپ نے بیعت لینے سے ہمیشہ انکار کیا اور یہی جواب دیا کہ ہمارے سب کام خدائے تعالی کے ہاتھ میں ہیں۔حتی کہ ۱۸۸۸ء کا دسمبر آگیا۔جب کہ آپ کو الہام کے ذریعے لوگوں سے بیعت لینے کا حکم دیا گیا۔اور پہلی بیعت ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ کے مقام پر میاں احمد جان نامی ایک مخلص تھے ان کے مکان پر ہوئی۔اور سب سے پہلے حضرت مولانا مولوی نورالدین نے بیعت کی اور اس دن چالیس کے قریب آدمیوں نے بیعت کی۔اس کے بعد آہستہ آہستہ کچھ لوگ بیعت میں شامل ہوتے رہے۔لیکن ۱۸۹۱ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا۔یعنی حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعے بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور میجی دونوں قائل ہیں فوت ہو چکے ہیں۔اور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آسکیں گے۔اور یہ کہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے مراد ایک ایسا شخص