انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 318

انوار العلوم جلد ۳۰ -- FA نجات کی حقیقت و سکتا۔پس یہ کہنا کہ شریعت کے تمام احکام پر عمل نہیں ہو سکتا ، غلط ہے اور عیسائی صاحبان اس متعلق اس طرح دھوکا دیتے ہیں کہ کسی سے پوچھتے ہیں۔کیا آپ نیک ہیں وہ آگے کسر نفسی اور انکسار سے کہتا ہے۔جی نہیں میں تو گنہگار ہوں عیسائی کہہ دیتے ہیں۔دیکھو یہ خود اقرار کرتا ہے کہ میں گنہگار ہوں اس سے ثابت ہوا کہ کوئی انسان گناہوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ جب حضرت مسیح کو بھی کہا گیا تھا کہ "اے نیک استاد! میں کیا کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں یسوع نے اس سے کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا" (لوقا باب ۱۸ آیت ۱۹۸۸) اور بات بھی یہی ٹھیک ہے۔کیونکہ اصل نیک جس میں کوئی کسی قسم کی بدی اور نقص نہ ہو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔لیکن ہر ایک انسان میں کمزوریاں ہیں مثلاً عالم الغیب نہ ہونا وغیرہ۔اس لئے اصل نیکی کا اطلاق پورے طور سے خدا تعالیٰ پر ہی ہو سکتا ہے۔لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی انسان نہ نیک ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ انسان جو نیک ہو وہ انکسار کی وجہ سے کہتا ہے کہ میں نیک نہیں ہوں کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ غرور اور تکبر جو انسان کی ہلاکت کا موجب ہے اس میں میں گرفتار نہ ہو جاؤں۔اور اس کا یہ اقرار بدی سے بچنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ بدی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے۔ورنہ ہزار ہا انبیاء نے دعوی کیا ہے کہ ہم ہر ایک قسم کی بدی اور برائی سے پاک ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے وہ خدا تعالی کے مقابلہ پر کرتا ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دیا ہوتا ہے۔دیا بھی روشن ہوتا ہے لیکن سورج کے مقابلہ پر اس کی روشنی کچھ چیز نہیں ہے۔یہی بات انسانوں میں ہے ورنہ بہت سے لوگ ایسے ہوئے ہیں جو شریعت کے احکام پر پورے پورے عمل کرنے والے تھے اور اب بھی ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان شریعت کے احکام پر عمل کر سکتا ہے۔واقعہ میں شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس پر عمل نہ ہو سکتا ہو۔کیا زنا ایسا ہے جس سے انسان بچ نہیں سکتا یا چوری یا ڈاکہ، جھوٹ، قتل، چغلی وغیرہ ایسے ہیں جن سے بچنا ناممکن ہے۔ہرگز نہیں اگر انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو۔تو ضرور بچ سکتا ہے عیسائی صاحبان کے پاس صرف انسان کا انکسار اور کسر نفسی اسبات کا ثبوت ہے کہ کوئی انسان گناہوں سے بچ نہیں سکتا لیکن یہ ایک غلط دلیل ہے۔دیکھو اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ تم گناہوں سے بالکل پاک ہو تو فروتنی کے لحاظ سے کہے گا کہ میں ایک گنہگار بندہ ہوں لیکن اگر اسے یہ کہا جائے کہ کیا تم تعزیرات ہند پر پورا پورا سة مطبوعه ۱۹۲۲ء