انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 298

انوار العلوم جلد - ۲۹۸ نصائح مبلغین بات کرو۔اس طرح اول تو اس کے دعوئی میں ہی اور نہیں تو پھر دلیلوں میں ہی تمہیں آسانی پیدا ہو جائے گی۔کوئی گورنمنٹ اپنے دشمن کو اپنا قلعہ نہیں دکھاتی۔قانون بنے ہوئے ہیں۔اگر کوئی کوشش کرے تو پکڑا جاتا ہے۔کیونکہ کمزور موقعہ معلوم کر کے پھر اس پر آسانی سے حملہ ہو سکتا ہے۔اس لئے پہلے کمزور موقعے معلوم کرو اور پھر حملہ کرو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا سیکھو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا ایسا گر ہے کہ انسان اس کے ذریعے سے بڑے بڑے عہدے حاصل کرتا ہے۔انسان محنت کرتا ہے اور ایک وائسرائے بھی۔مزدور آٹھ آنے روز لیتا ہے وائسرائے ہزاروں روپیہ روز کیا وجہ ؟ وہ تھوڑے وقت میں بہت کام کرتا ہے۔اس کا نام لیاقت ہے۔دوسرا طریق دو سروں سے کام لینے کا ہے۔بڑے بڑے عہدے دار خود تھوڑا کام کرتے ہیں دوسروں سے کام لیتے ہیں۔وہ تو خوب تنخواہیں پاتے ہیں لیکن ایک محنتی مزدور آٹھ آنہ ہی کماتا ہے۔یہ لیاقت کام کرنے کی لیاقت سے بڑی ہے۔پس جتنی لیاقت کام کروانے کی ہوگی اتنا بڑا ہی عہدہ ہو گا۔محمد رسول اللہ کو کیوں سب سے بڑا درجہ ملا ہے۔محنت کرنے میں تو لوگ جو سالہا سال غاروں میں رہتے تھے آپ سے بڑھے ہوئے تھے۔آپ میں کام لینے کی لیاقت تھی۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے تو انسان میں ایک طاقت رکھی ہے۔بہت جگہ سیکرٹری ہوتے ہیں خود محنتی ہوتے ہیں لوگوں سے کام لینا نہیں جانتے پھر لکھتے ہیں لوگ مانتے نہیں۔دوسری جگہ سیکرٹری ہوتا ہے وہ خود تھوڑا کام کرتا ہے۔لیکن لوگوں سے کام لیتا ہے اور خوب لیتا ہے تمام انتظام ٹھیک رہتا ہے۔ہمیشہ اپنے کاموں میں خود کام کرنے اور کام لینے کی طاقت پیدا کرو۔ایسے طریق سے لوگوں سے کام لو کہ وہ اسے بوجھ نہ سمجھیں۔بہت لوگ خود محنتی ہوتے ہیں جب تک وہ وہاں رہتے ہیں کام چلتا رہتا ہے لیکن جب وہ وہاں سے ہٹتے ہیں کام بھی بند ہو جاتا ہے۔اللہ تعالٰی کے سلسلے جو ہوتے ہیں جب نبی مرجاتا ہے تو وہ سلسلہ متا نہیں بلکہ اس کے آگے کام کرنے والے پیدا ہو گئے ہوتے ہیں۔یہ اس لئے کہ نبی ایک جماعت کام کرنے والی تیار کر جاتا ہے۔پس تمہارے سپرد بھی یہی کام ہوا ہے۔یہ ایک مشق ہوتی ہے خوب مشق کرو لوگوں میں کام کرنے کی روح پھونک دو۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں صحابہ میں کام کرنے کی ایک روح پھونکی گئی تھی۔ہر دو مہینے کے بعد کوفے کا گورنر بدلتا تھا حضرت عمر فرماتے تھے اگر کوفے والے مجھے روزگور نر بدلنے کے لئے کہیں تو میں روز بھی بدل سکتا ہوں۔ایسے رنگ میں کام کرو کہ