انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 274

۲۷۴ اسلام اور دیگر مذاہب قرابت داروں کے علاوہ جن کا تعلق ہمسایہ اور شریک سے نیک سلوک کا حکم انسان کے ساتھ خون کے ذریعہ سے ہو A ہوتا ہے ایک اور قسم کے بھی قریبی ہوتے ہیں جن کو بوجہ خونی رشتہ کے تعلق نہیں ہو تا لیکن قرب مکانی کے لحاظ سے وہ بھی قریبی ہوتے ہیں اس لئے اسلام نے ان کو بھی فراموش نہیں کیا چنانچہ ان کے متعلق حکم دیا ہے کہ وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِى القربى واليتمى وَالْمَسَكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ، إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَا لَا فَخُورًا (النساء : ۳۷) یعنی اللہ تعالٰی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو اور قریبوں سے بھی احسان کا معاملہ کرو اور بتائی اور مساکین سے اور ہمسایہ سے جو دیوار بدیوار رہتا ہے اور اس سے بھی جو فاصلہ پر ہے احسان کر د یعنی جس کا مکان ساتھ تو نہیں لیکن ایک محلہ میں یا ایک گاؤں میں رہتا ہے یا پاس کے گاؤں میں رہتا ہے اور اس شخص کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو جو تمہاری تجارت میں شریک ہے یا ایک جگہ پر تمہارے ساتھ ملازم ہے یا تمہارا رفیق سفر ہے۔یہ وہ تعلیم ہے جو ہمسایہ اور شریک کے متعلق کہ ایک بوجہ مکان کے پاس رہنے کے اور دو سرا بوجہ کسی کام میں اس کا ساتھی ہو جانے کے قریبوں میں شامل ہو جاتا ہے اسلام نے دی ہے۔رسول کریم فرماتے ہیں کہ مجھے جبریل نے ہمسایہ سے نیک سلوک رکھنے کی اس قدر تاکید کی اور اتنی دفعہ کی کہ مجھے خیال ہو گیا کہ شائد ہمسایہ کو وارث قرار دے دیا جائے گا۔(بخاری کتاب الادب باب الوصاية بالجار) اسی طرح ہم سفروں کے متعلق آپ نے فرمایا کہ جو شخص اونٹنی پر سوار ہو اور دوسرے آدمی کی جگہ خالی ہو تو چاہئے کہ کسی ہم سفر کو اپنے ساتھ سوار کر لے اور جو شخص کہ سفر پر ہو اور اس کے پاس کچھ زیادہ کھانا ہو وہ اپنے ہم سفر کو شریک کرے۔ہم سفر کے علاوہ ایک مجلس میں بیٹھنے والوں کے متعلق بھی اسلام نے نیک سلوک کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا یا يُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَتَحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ (الجادله : (۱۲) یعنی اے مومنو! جب تم کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہو اور کوئی اور آدمی آکر کہے کہ ذرا کھل جاؤ اور ہمیں بھی جگہ دو تو چاہئے کہ تم سمٹ کر جگہ دے دیا کرو۔خدا تعالیٰ تم کو اپنے قرب میں جگہ دے گا۔اسی طرح ہم مجلس کی فیلنگز کا خیال رکھنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب ایک جگہ پر