انوارالعلوم (جلد 3) — Page 252
انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۵۲ اسلام اور دیگر نے اہب طرح کیا گیا لیکن جب ایک مدت کے بعد مسیحیوں کا میلان بالکل دوسری طرف ہو گیا اور وہ ہے اعمال سے غافل ہونے لگے تو پھر ایک اور شریعت کی ضرورت ہوئی اور یہی حال دیگر مذاہب کا ہے کہ ان میں سے کسی مذہب میں ضرور تا خدائے تعالی کے غضب اور انتقام کی صفات پر زور دیا گیا ہے اور کسی میں اس کی محبت اور پیار پر اور چونکہ یہ تمام تعلیمیں وقتی تھیں جب حالات بدل گئے تو بجائے نفع رسانی کے نقصان دہ ہو گئیں اور اب چونکہ وہ وقت آگیا تھا جسے اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے ایک کامل اور عالمگیر مذہب کیلئے پسند فرمایا تھا اس لئے نبیوں کے سردار اور نیکیوں کے پیشوا محمد ﷺ پر وہ وحی نازل کی گئی جو ایسی جامع اور مانع تھی کہ کسی طبیعت اور کسی تعلیم اور کسی تہذیب کے آدمیوں کی ضرورت اس میں نظر انداز نہیں کی گئی اور نہ کوئی غیر ضروری اور وقتی بات اس میں داخل کی گئی۔پس ہم ان نادانوں کی طرح جو اپنے خبث کا اظہار خدائے تعالیٰ کے پاک بندوں کو گالیاں دے کر کرتے ہیں یہ نہیں کہتے کہ اسلام سے پہلے کے سب مذاہب جھوٹے تھے بلکہ ہم ان کو سچا تسلیم کرتے ہیں۔ہاں واقعات اور حق کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ جو جامعیت اسلام میں ہے وہ کسی مذہب میں نہیں اور یہ کہ اسلام کے آنے کے بعد اب اور کسی مذہب کی ضرورت نہیں۔ان مذاہب نے خدائے تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے جو تدابیر اختیار کی تھیں وہ اپنے وقت کے مطابق رست تھیں لیکن اب اس زمانہ میں جبکہ تمدن کی ترقی نے سب دنیا کو ایک کر دیا ہے اور انسانی تو علوم بہت ترقی کر چکے ہیں وہ انسان کی ہدایت کیلئے کافی نہیں ہو سکتیں اور اس وقت اسلام ہی تو ہے جو اپنی بے عیب تعلیم کی وجہ سے تمام دنیا کی ہدایت کر سکتا ہے اور جس کی تعلیم کسی خاص بات پر زور نہیں دیتی بلکہ تمام ضروری ہدایتوں کو کھولتی اور شرح کرتی ہے۔مختلف مذاہب اپنے اندر مختلف صداقتیں رکھتے ہیں لیکن کوئی ایسا مذہب نہیں جو یکجائی طور پر ان تمام خوبیوں کا جامع ہو جو اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں پس آج روئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی ایسا مذہب نہیں جو انسان کا تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا کرا سکے اور اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت بھیج دی ہے تو اس نے اپنی رضا کے اظہار کے لئے اسلام کے سوا اور تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور کوئی شخص اب خدائے تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اسلام کا جوا اپنی گردن پر نہ اٹھائے۔افسوس ہے کہ قلت وقت کی وجہ سے اس موضوع پر بالتفصیل بحث نہیں ہو سکتی ورنہ اور بہت سی مثالوں کے ساتھ بتایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے