انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 251

۲۵۱ اسلام اور دیگر نے اہب حاوی ہے اب اس آیت کے مضمون کو اس آیت کے مضمون سے ملا کر دیکھو تو معلوم ہو جائے گا کہ خوف صرف ایک ابتدائی ذریعہ رکھا گیا ہے ورنہ جب کوئی شخص خوف سے اللہ تعالی کی طرف آتا ہے تو وہ اپنی رحمت کی اس قدر بارش اس پر کرتا ہے اور اپنے افضال کے اتنے چھینٹے اسے دیتا ہے کہ گو اس کا بندہ اپنے تعلق کی بناء خوف پر ہی رکھے جاتا ہے لیکن آخر اس کے دل کی سختی دور ہو جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ پہلے خدائے تعالیٰ کے احسان اور پھر اس کے حسن کا ادراک اپنے دل میں پاتا ہے اور خوف کا تعلق محبت کے تعلق سے بدل جاتا ہے اور اس کا دل خدائے تعالی کے خوف سے پُر ہونے کی بجائے اس کی رحمت کی یاد سے پُر ہو جاتا ہے اور آخر رحمت ہی رحمت رہ جاتی ہے اور محبت ہی محبت جلوہ گر ہو جاتی ہے اور اگر خوف باقی رہتا ہے تو صرف اس بات کا کہ کہیں کسی فعل کی وجہ سے اس محبوب یکتا سے جدائی نہ ہو جائے۔تعلق باللہ کے لئے جس تدبیر سے یہ مضمون جو اوپر بیان ہوا ہے۔ان تدابیر کو ظاہر کرتا ہے جو اسلام نے اللہ تعالیٰ سے۔اسلام نے کام لیا ہے دوسرے بندے کا تعلق پیدا کرنے اور پھر اسے مضبوط مذاہب اس کی نظیر لانے سے قاصر ہیں کرنے کیلئے کی ہیں اور ہر ایک شخص ایک ذرا سے غور سے معلوم کر سکتا ہے کہ کس طرح ان تدابیر میں میانہ روی سے کام لیا گیا ہے اور تمام وہ پہلو مد نظر رکھے گئے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کا تعلق خدائے تعالیٰ سے قائم ہو سکتا ہے لیکن اس مقابلہ میں جو تعلیم دوسرے مذاہب نے پیش کی ہے وہ ایسی وسیع اور تمام طبائع کے مطابق نہیں مثلاً یہودیت نے خدائے تعالیٰ کو نہایت ہیبت ناک شکل میں پیش کیا ہے اور اس کی غضب اور انتقام کی خواہش پر بہت زور دیا ہے جس کی یہ وجہ تھی کہ بنی اسرائیل فرعون کی ماتحتی میں رہ کر جو ایک ظالم بادشاہ تھا اس بات کے عادی ہو گئے تھے کہ خوف اور ظلم سے ہی بات مانتے تھے پس ان پر خدائے تعالیٰ کا جلوہ گرجوں اور زلزلوں کے رنگ میں ہوا لیکن آہستہ آہستہ ان کی طبیعت کی اصلاح ہو گئی اور کچھ مدت کے بعد تو ان خیالات نے ان پر حد سے زیادہ تصرف کر لیا۔پس ضرورت تھی کہ اس وقت کے حالات کے ماتحت حضرت مسیح محبت کا پیام لاتے اور روح القدس کبوتری جیسے نرم طبیعت اور حلیم جانور کی شکل میں ظاہر ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر زور دیا جاتا تا ان غلط خیالات کی اصلاح ہو جو خدائے تعالی کی سخت گیری منتقم طبیعت کے متعلق ان کے اندر پھیل گئے تھے چنانچہ اس وقت کے نقص کا علاج اسی