انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 250

العلوم جلد - ۳ ۲۵۰ اسلام اور دیگر مذاہب کو معلوم کر کے ہم اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتے کہ وہ ان لوازمات محبت اور تعلقات خوف کو پورا کر سکے گا جو آپ کے ساتھ تعلق میں ضروری ہیں اس لئے ہم آپ سے ہی مدد مانگتے ہیں کہ اس تعلق کو نباہنے کی ہمیں طاقت دے۔غرض ان مختصر الفاظ میں خدائے تعالیٰ کے حسن اور احسان اور اس کے جلال کا ایسا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کسی ملک کسی قوم کسی تہذیب اور کسی زمانہ کے لوگ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہر ایک انسان جب اللہ تعالیٰ کی صفات کا مطالعہ ان آیات پر نظر ڈال کر کرتا ہے جو ابھی بیان ہوئیں تو اس کا قلب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس جگہ ضمنی طور پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خوف کے تعلق کو کامل بنانے کا طریق گو خوف بھی ایک ذریعہ تعلق ہے لیکن یہ ذریعہ تعلق نہایت ادنی ہے کیونکہ خوف کا تعلق حقیقی تعلق نہیں ہو تا مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض طبائع خوف کے بغیر تعلق پیدا نہیں کرتیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے پس ا اس تعلق کو کامل کرنے کا بھی ایک طریق قرآن کریم نے بتایا ہے اور خوف سے تعلق پیدا کرنا صرف ابتدائی ذریعہ رکھا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بچے جب سکول نہیں جاتے یا اور بعض فرائض ادا نہیں کرتے تو ان کے والدین جب معلوم کر لیتے ہیں کہ ہماری محبت اور ہمارا احسان ان کی بگڑی ہوئی طبیعت کی اصلاح نہیں کر سکتے تو وہ سختی سے کام لے کر ان کو مدرسہ بھیجتے ہیں اور کچھ مدت تک تو وہ اس ڈر اور خوف سے جو ان کے والدین ان کے دل میں پیدا کرتے ہیں مدرسہ جاتے رہتے ہیں لیکن اگر کوئی مہربان مدرس ہو تو وہ چند ہی دنوں میں ان کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کر لیتا ہے اور پھر وہ خوف مبدل بہ محبت ہو جاتا ہے اور گو ان کے سکول میں جانے کے کی ابتداء خوف سے ہوئی تھی لیکن بعد میں خوف کی جگہ محبت اور ڈر کی جگہ پیار لیتا ہے اور ا اس طرح ان ناقص نتائج کا جو ایسی تعلیم سے نکلنے تھے جس کا محرک صرف خوف تھا اندیشہ جاتا رہتا ہے۔بعینہ اسی طرح خدائے تعالیٰ بھی اپنے بندے سے سلوک کرتا ہے اور کو تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے اور ان طبائع کو ہلاکت سے بچانے کیلئے جو بعض کمزوریوں کی وجہ سے ایسی مسخ ہو جاتی ہیں کہ صرف خوف سے ہی قریب آسکتی ہیں۔اس شہنشاہ ارضی و سماء کا جلال اور اس کی گرفت کی سختی بھی انسان کو یاد کرائی گئی ہے لیکن اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ) الاعراف: ۱۵۷) میری رحمت اور میری بخشش ہر ایک چیز پر