انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 234

۲۳۴ اسلام اور دیگر مذاہب اس کے بعد میں آپ لوگوں کی توجہ اسلام دنیا کے تمام انبیاء کی تصدیق کرتا ہے۔اس بات کی طرف منعطف کرانی چاہتا ہوں کہ میری غرض اس وقت اسلام اور دیگر مذاہب کا مقابلہ اس رنگ میں کرنا نہیں ہے کہ میں مختلف مذاہب پر کچھ الزامات لگا کر بتاؤں کہ وہ تمام مذاہب باطل ہیں اور صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے خدائے تعالی کی طرف سے بھیجا گیا ہے کیونکہ اگر میں ایسا کروں تو نہ صرف یہ کہ عقل انسانی میرے اس خیال کو بڑے زور سے رد کرے گی بلکہ خود اسلام بھی میرے اس خیال سے بریت ظاہر کرے گا کیونکہ اسلام خدائے تعالیٰ کو ظالم قرار نہیں دیتا اور وہ دنیا سے ہرگز یہ بات منوانا نہیں چاہتا کہ جب تک رسول کریم دنیا میں تشریف نہ لائے تھے اس وقت تک خدا تعالٰی نے انسان کی ہدایت کیلئے کوئی سامان پیدا نہیں کیا تھا۔اگر خدائے تعالیٰ قدیم ایام سے اپنے بندوں کی جسمانی ضروریات کو پورا کرتا چلا آیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس نے ان کی روحانی ضروریات کے پورا کرنے کا سامان نہ کیا ہو اور لاکھوں برس تک انسان کو گمراہی میں پڑا رہنے دیا ہو۔اسلام اس خیال کا بالکل مخالف ہے اور وہ خدائے تعالی کو رب العالمین قرار دیتا ہے یعنی جس کی ربوبیت ہر زمانہ اور ہر ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور کسی خاص قوم یا خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔جس طرح اس کا سورج ہمیشہ سے اپنی روشنی سے بنی نوع انسان کی جسمانی آنکھوں کو منور کرتا رہا ہے ہے۔اسی طرح اس کا نور ہمیشہ ہمیش سے انسانی عقل کو اپنی چمکدار شعاؤں سے منور کرتا رہا ہے اور جس طرح چند گیسوں سے مرکب پانی ہمیشہ سے انسان کے جسم کو تازہ رکھنے کیلئے اس کی طرف سے نازل ہوتا رہا ہے اسی طرح راستی اور صداقت سے مرکب وحی روح کو سرسبز و شاداب رکھنے کیلئے اس کی طرف سے اترتی رہی ہے اور اس نے اپنے احسانات سے کسی قوم کو محروم نہیں رکھا۔نہ تو اس نے ہندوستان کے باشندوں سے بخل کیا ہے نہ ایران کے باشندوں کے سے نہ اس نے چین کے باشندوں سے اپنی موہت کو روکے رکھا ہے نہ عرب کے باشندوں سے نہ ایشیا سے اس کی روحانی بارش رو کی گئی ہے نہ یورپ سے نہ امریکہ کے جنگل اس سے محروم رہے ہیں نہ افریقہ کے ریگستان۔قرآن کریم بڑے زور سے دعوئی فرماتا ہے کہ قران من أمَةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذیر ناطر : (۲۵) یعنی کوئی بھی ایسی قوم نہیں گزری کہ جس میں خدائے تعالٰی کی طرف سے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا اور اسی طرح فرماتا ہے وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلّ أُمَّةٍ