انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 215

العلوم جلد ٣٠ ۲۱۵ اور دوست احمد بھی۔کئی لڑکوں کے نام ننھیال والے اور رکھتے ہیں اور ددھیال والے اور۔بعض کا تاریخی نام کچھ اور ہوتا ہے اور عام مشہور نام کوئی اور۔پس جب عام طور پر متعدد نام ہوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایک شخص کے نام کرشن ، بدھ ، مسیح، مهدی ، احمد اور غلام احمد نہ ہوں۔جب دنیا میں اور کئی شخصوں کے کئی نام ہوتے ہیں۔اور اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔تو یہ بھی تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ایک ہی شخص پہلے کئی اشخاص کے نام پالے۔ہاں یہ تعجب کی بات ہے کہ پہلے ہی اصل شخص پھر آجا ئیں۔لیکن ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ حضرت مسیح موعود وہی مسیح ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔یا وہی بدھ ہیں جو بدھ مذہب کا بانی تھا۔یا وہی کرشن ہیں جو ہندوؤں میں بھیجا گیا تھا۔یا دہی محمد ہیں جو تیرہ سو سال ہوئے عرب میں مبعوث ہوئے تھے۔بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سب کے نام ایک شخص کو دے دیئے ہیں۔اور ایک شخص کے بہت سے نام رکھنا ہرگز قابل تعجب نہیں۔قابل تعجب یا تو یہ بات ہو سکتی تھی کہ پہلے ہی آدمی اپنے اپنے جسم عنصری کے ساتھ واپس تشریف لاتے۔یا یہ کہ تاریخ کے مسئلہ کے ماتحت ان کی ارواح دنیا میں آتیں اور ان کی روحیں ایک ہی جسم میں داخل ہو جاتیں۔لیکن ہم تناسخ کے قائل نہیں اور نہ اس بات کے قائل ہیں کہ ان پہلے انبیاء کی ارواح ایک شخص میں آکر داخل ہو گئیں ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ چونکہ پہلے مسیح کی روح حضرت مسیح موعود کے جسم میں آگئی ہے اس لئے وہ مسیح کہلاتے ہیں۔یا کرشن کی روح ان کے جسم میں آگئی ہے اس لئے وہ کرشن کہلاتے ہیں۔یا بدھ کی روح آپ میں حلول کر گئی ہے اس لئے آپ بدھ کہلاتے ہیں۔یا آنحضرت ﷺ کی روح مبارکہ نے آپ کے جسم کو اپنا مسکن بنایا ہے اس لئے آپ محمد " کہلاتے ہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کئی آدمیوں کے اخلاق اور کمالات حاصل کر کے ان کے نام پا گیا ہے۔اسلام اس عقیدہ کو ہے جائز نہیں رکھتا کہ کوئی روح تاریخ کے چکر میں واپس دنیا میں آئے لیکن بروز کو جائز کہتا۔کیونکہ تناسخ علیحدہ بات ہے۔تاریخ تو اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص جو وفات پا چکا ہو اس کی روح کو خدا تعالیٰ جنت سے نکالے اور کسی اور جسم میں ڈال دے۔جیسا کہ ہندو کہتے ہیں کہ جو انسان مرجائے اس کی روح مختلف جانوروں کی شکل اختیاز کرتی رہتی ہے کبھی مکھی بنتی ہے ، کبھی کتا، کبھی بلی ، کبھی سور کبھی انسان وغیرہ وغیرہ۔لیکن یہ ایک لغو بات ہے۔پس ہمارا یہ کہنا کہ حضرت کرشن ، بدھ ، مسیح اور آنحضرت " آئے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ وہی آگئے ہیں جو پہلے