انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 197

تھا۔194 اتوار خلافت سب لوٹ لیا جس سے ان لوگوں کی اصل نیست معلوم ہوتی ہے یا تو یہ لوگ حضرت عثمان پر الزام لگاتے تھے اور ان کے معزول کرنے کی یہی وجہ بتاتے تھے کہ وہ خزانہ کے روپیہ کو بری طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو دے دیتے ہیں۔یا خود سرکاری خزانہ کے قفل تو ڑ کر سب روپیہ لوٹ لیا اس سے معلوم ہو گیا کہ ان کی اصل غرض دنیا تھی۔اور حضرت عثمان کا مقابلہ محض اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لئے تھا تاکہ جو چاہیں کریں اور کوئی شخص روک نہ ہو۔جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو اسلامی لشکر جو شام و بصرہ اور کوفہ سے آتے تھے ایک دن کے فاصلہ پر تھے ان کو جب یہ خبر ملی تو وہ وہیں سے واپس لوٹ گئے تا ان کے جانے کی وجہ سے مدینہ میں کشت و خون نہ ہو اور خلافت کا معاملہ انہوں نے خدا تعالی کے سپرد کر دیا۔ان باغیوں نے حضرت عثمان کو شہید کرنے اور ان کا مال لوٹنے پر بس نہیں کی بلکہ ان کی لاش کو بھی پاؤں میں روندا اور دفن نہ کرنے دیا۔آخر جب خطرہ ہوا کہ زیادہ پڑے رہنے سے جسم میں تغیر نہ پیدا ہو جائے۔تو بعض صحابہ نے رات کے وقت پوشیدہ آپ کو دفن کر دیا۔ایک دو دن تو خوب لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔لیکن جب جوش ٹھنڈا ہوا۔تو ان باغیوں کو پھر اپنے انجام کا فکر ہوا۔اور ڈرے کہ اب کیا ہو گا۔چنانچہ بعض نے تو یہ سمجھ کر کہ حضرت معاویہ ایک زبر دست آدمی ہیں اور ضرور اس قتل کا بدلہ لیں گے شام کا رخ کیا اور وہاں جا کر خود ہی واویلا کرنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان شہید ہو گئے اور کوئی ان کا قصاص نہیں لیتا۔کچھ بھاگ کر مکہ کے راستے میں حضرت زبیر اور حضرت عائشہ سے جاملے اور کہا کہ کس قدر ظلم ہے کہ خلیفہ اسلام شہید کیا جائے اور مسلمان خاموش رہیں کچھ بھاگ کر حضرت علی کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت مصیبت کا وقت ہے۔اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے آپ بیعت لیں تا لوگوں کا خوف دور ہو۔اور امن و امان قائم ہو جو صحابہ مدینہ میں موجود تھے انہوں نے بھی بالاتفاق یہی مشورہ دیا کہ اس وقت یہی مناسب ہے کہ آپ اس بوجھ کو اپنے سر پر رکھیں کہ آپ کا یہ کام موجب ثواب و رضائے الہی ہو گا۔جب چاروں طرف سے آپ کو مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ انکار کرنے کے بعد آپ نے مجبورا اس کام کو اپنے ذمہ لیا اور بیعت لی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی کا یہ فعل بڑی حکمت پر مشتمل تھا۔اگر آپ اس وقت بیعت نہ لیتے تو اسلام کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچتا جو آپ کی اور حضرت معاویہ کی جنگ