انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 186

انوار العلوم جلد TAY انوار خلافت جب مفسدوں نے دیکھا کہ اب حضرت عثمان نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اور اس طرح ہمارے منصوبوں کے خراب ہو جانے کا خطرہ ہے تو انہوں نے فورا ادھر ادھر خطوط دوڑا کر اپنے ہم خیالوں کو جمع کیا کہ مدینہ چل کر حضرت عثمان سے رو برو بات کریں۔چنانچہ ایک جماعت جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئی۔حضرت عثمان کو ان کے ارادہ کی پہلے سے ہی اطلاع ہو چکی تھی۔آپ نے دو معتبر آدمیوں کو روانہ کیا کہ ان سے مل کر دریافت کریں کہ ان کا منشاء کیا ہے۔ان دونوں نے مدینہ سے باہر جاکر ان سے ملاقات کی اور ان کا عندیہ دریافت کیا۔انہوں نے اپنا منشاء ان کے آگے بیان کیا پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا مدینہ والوں میں سے بھی کوئی تمہارے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا کہ صرف تین آدمی مدینہ والوں سے ہمارے ساتھ ہیں۔ان دونوں نے کہا کہ کیا صرف تین آدمی تمہارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا ہاں صرف تین ہمارے ساتھ ہیں (اب بھی موجودہ فتنہ میں قادیان کے صرف تین چار آدمی ہی پیغام والوں کے ساتھ ملے ہیں یا دو تین ایسے آدمی جو مولفۃ القلوب میں داخل تھے اور جو بعد میں پیغام والوں سے بھی جدا ہو گئے) انہوں نے دریافت کیا کہ پھر تم کیا کرو گے۔ان مفسدوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم حضرت عثمان سے وہ باتیں دریافت کریں گے جو پہلے ہم نے ان کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بٹھائی ہوئی ہیں۔پھر ہم واپس جاکر تمام ملکوں میں مشہور کریں گے کہ ان باتوں کے متعلق ہم نے (حضرت) عثمان سے ذکر کیا لیکن اس نے ان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور توبہ نہیں کی۔اس طرح لوگوں کے دل ان کی طرف سے بالکل پھیر کر ہم حج کے بہانہ سے پھر لوٹیں گے اور آکر محاصرہ کریں گے۔اور عثمان سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کریں گے۔اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے قتل کر دیں گے۔ان دونوں مخبروں نے ان سب باتوں کی اطلاع آ کر حضرت عثمان کو دی تو آپ نے اور دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں پر رحم کر۔اگر تو ان پر رحم نہ کرے تو یہ بد بخت ہو جائیں گے۔پھر آپ نے کوفیوں اور بصریوں کو بلوایا اور مسجد میں نماز کے وقت جمع کیا اور آپ منبر پر چڑھ گئے اور آپ کے ارد گرد وہ مفسد بیٹھ گئے۔جب صحابہ کو علم ہوا تو سب مسجد میں آکر جمع ہو گئے اور ان مفسدوں کے گرد حلقہ کر لیا۔پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔اور ان لوگوں کا حال سنایا اور ان دونوں آدمیوں نے جو حال دریافت کرنے گئے تھے سب واقعہ کا ذکر کیا۔اس پر صحابہ نے بالاتفاق بآواز بلند پکار کر کہا کہ ان کو قتل کردو۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اپنی یا کسی اور کی ย