انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xi

(۳) پیغام مسیح موعود علیہ السلام جولائی ۱۹۱۵ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی علاج کے لئے لاہور تشریف لے گئے اور ایک خاص تحریک کے نتیجہ میں ایک پبلک جلسہ میں یہ خطاب ارشاد فرمایا جو دسمبر ۱۹۱۵ء میں ”پیغام مسیح" کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔آپ نے انبیاء کی بعثت کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا: " قرآن شریف نے نبیوں کی یہ غرض بتائی ہے کہ وہ آکر خدا کے غضب سے لوگوں کو بچائیں اور انسانوں کو آپس کے ضرر اور نقصان سے محفوظ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کے طریق بتائیں" آپ نے آخری زمانہ کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہی زمانہ ہے جس کی ہر مذہب اور قوم کے نبی نے خبر دی تھی اور اس زمانہ کے بداثرات سے محفوظ رہنے کے لئے اپنی اپنی قوم کو کسی مسیح، کرشن ، مہدی کے الفاظ میں خوشخبری سنائی تھی۔پس اس زمانہ میں آنے والا آگیا آؤ اور اس کو قبول کرو اور آپس کے مذہبی جھگڑے ختم کر دو۔آپ نے دو نہایت اہم اور ضروری پیغام دیئے۔(۱) پہلا پیغام مذہبی جھگڑوں کے انسداد کی تجویز پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتا اور برا بھلا کہنا ترک کر دیا جائے۔آپ نے فرمایا : اگر مختلف مذاہب کے لوگ اس بات میں ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ ہو جائیں تو میں اپنی جماعت کی طرف سے جو کئی لاکھ ہے اور جس کا میں واحد امام ہوں اپنی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ گالیوں کو ترک کر کے نرمی اور آشتی کی طرف ایک قدم بڑھا ئیں گے میں دس قدم بڑھاؤں گا اور جو ہماری طرف ایک ہاتھ بڑھے گا ہم اس کی طرف دس ہاتھ بڑھیں گے"۔(۲) دو سرا پیغام حضرت مسیح موعود کی بعثت کا دیا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک برگزیدہ ہم میں مبعوث کیا ہے اس کو قبول کرو۔آپ نے فرمایا :