انوارالعلوم (جلد 2) — Page 72
۷۲ کا کام ہو سکتا ہے صرف خدا کا خلیفہ اول ایک شان رکھتا تھا۔اور اس کے کاموں کو اس کی طرف منسوب کیا بھی جاسکتا تھا۔مگر میں کیا ہوں کہ کسی کو یہ خیال بھی گزر سکے کہ اس فتنہ کے دور کرنےمیں مجھے میرا بھی ہاتھ تھا۔یہ طاقت نمائی شرک کے تمام شائبوں سے پاک تھی۔اور انبیاء و اولیاء کامحبوب بے نقاب اس وقت دنیاپر ظاہر ہوا۔تا کہ ان شرک کے ایام میں لوگوں کو بتادے کہ ایک مٹی کے ڈلے اور لکڑی کے کندہ سے بھی میں وہ کام لے سکتا ہوں جو دنیا کے بادشاہ نہیں کر سکتے۔میرے پیارے رب! تو آپ ہی بتا کہ ہم کس طرح تیرے ان احسانات کا شکریہ ادا کریں۔کیونکہ ہماری عقلیں کو تاہ اور ہمارے فہم کمزور ہیں۔ہم تیرے پہلے بھی محتاج تھے۔اور اب بھی محتاج ہیں۔اور آئندہ بھی تیرے ہی محتاج ہوں گے۔پھر ہمیں اے بادشاہ تجھ سے سوال کرنے میں کیا شرم ہو- وہ شخص جس نے کبھی سوال نہ کیا ہو شرماتا ہے لیکن جو ہروقت مجسم سوال بنارہے اسے سوال کرتے ہوئے کیا شرم آسکتی ہے۔پس اے میرے رب! تیرے حضور میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں اسے قبول فرما کہ بادشاہوں کے دروازوں پر سے گداگر خالی ہاتھ نہیں لوٹا کرتے۔جس طرح تونے اس جماعت کے کثیر حصہ کو مجتمع اور متحد کردیا ہے قلیل کو بھی ہمارے ساتھ ملا دے۔میرے پیارے رب تو جانتا ہے کہ مجھے اپنی بڑائی کی خواہش نہیں مجھے حکومت کا شوق نہیں لیکن جماعت کا اتحاد مجھے مطلوب ہے۔اور تفرقہ کو دیکھ کر میرا دل بیٹھاجاتا ہے۔پس خدایا اپنافضل کیجئے میرے زخمی دل پر مرہم کافور لگائیے مجھے جو کچھ بھی حضور نے دیا امیدوں سے بڑھ کر دیا۔مگر مولیٰ مجھے اس معاملے میں حرص سے معذور رکھئے۔ابھی میری حرص کی آگ نہیں بجھی اور میرے دل میں تڑپ ہے کہ کسی طرح سب کی سب جماعت پھر ایک سلک میں پروئی جائے اور ہم سب مل کرتیرے نام کو دنیا پر روشن کریں۔طاقتور شہنشاہ یہ تیرے لئے کچھ مشکل نہیں۔احمد کے نام کو دوٹکڑے ہونے سے بچالے۔پیارے یہ جماعت تیری پیاری جماعت ہے اور کون چاہتا ہے کہ اپنے پیاروں کے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے۔میرے دوستوا خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کاہاتھ بہت زبردست ہے تم اپنے مولی ٰکے سامنے گرکر آہ و زاری کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ تایہ بادل سورج کے سامنے سے ہٹ جائیں۔اوروہ پہلے سے بھی زیادہ دنیا کو روشن کرے۔میں اس موقعہ پر اخبارات کے ایڈیٹران کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ آئندہ منکران خلافت کے متعلق سخت کلامی کو ترک کردیں۔میں جانتا ہوں کہ جس کے ہاتھ پر انسان بیعت کر چکا ہو اس کے خلاف بات سننا مشکل ہوتا ہے۔لیکن آپ لوگ نرمی سے کام