انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 56

۵۶ لیکن اگر مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے اور ضرور تھے تو پھر یاد کرو کہ یہ جماعت ضلالت پر اکٹھی نہیں ہو سکتی۔قرآن شریف کو کوئی مسیح نہیں توڑ سکتا۔میرا یقین ہے کہ کوئی ایسا مسیح نہیں آ سکتا۔جو آئے گا قرآن کا خادم ہو کر آئے گا اس پر حاکم ہو کر نہیں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ تھا یہی شرح ہے آپ کے اس قول کی ’’وہ ہے میں چیز کیا ہوں‘‘۔یہ تو دشمن پر حجت ہے مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنے کو آیا تھا۔اسے نَعُوْذُبِاللّٰہِ باطل کرنے نہیں آیا تھا۔اس نے اپنے کام سے دکھا دیا کہ وہ قرآن مجید کا غلبہ ثابت کرنے کے لئے آیا تھا۔قرآن مجید میں فرمایا ہےفَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚوَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ(اٰل عمران۔۱۶۰) طریق حکومت کیا ہونا چاہیے؟پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو؟ خدا تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے تمہیں ضرورت نہیں کہ تم خلیفہ کیلئے قواعد اور شرائط تجویز کرو یا اس کے فرائض بتاؤ۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِفَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕایک مجلس شوریٰ قائم کرو، ان سے مشورہ لے کر غور کرو پھر دعا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ۔خواہ وہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہوتو خدا تعالیٰ مدد کرے گا۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر توکّل کرو۔گویا ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید اور نصرت کرے گا اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہو اور خدا تعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے مگر وہ چند آدمیوں کی رائے کے خلاف نہ کرے۔حضرت صاحب نے جو مصلح موعود کے متعلق فرمایا ہے۔’’وہ ہوگا ایک دن محبوب میرا‘‘ اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ خدا تعالیٰ متوکلین کو محبوب رکھتا ہے جو ڈرتا ہے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا اسے تو گویا حکومت کی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو میں کسی آدمی کے خلاف کروں تو وہ ناراض ہو جائے ایسا شخص تو مشرک ہوتا ہے اور یہ ایک لعنت ہے۔خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ اُن کے خوفوں کو دُور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اُس کو خوف کیا اور اس میں موحد ہونے کی کونسی بات ہے۔حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری