انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 55

۵۵ خلیفہ ثانی پر اعتراض کیا جاتا ہے۔یاد رکھو کہ مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جس قدر اعتراض ہوتے ہیں اُن کو دور کرنے آئے تھے جیسے مثلاً اعتراض ہوتا تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر دکھا دیا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا بلکہ وہ اپنی روشن تعلیمات اور نشانات کے ذریعہ پھیلا ہے اسی طرح قرطاس کی حقیقت معلوم ہو گئی۔سن لو! خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں قرطاس کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ اور میں یہ بھی تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ قرطاس منشائِ الٰہی کے خلاف بھی نہیں ہو سکتا۔حضرت خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیعہ ہمارے اُستاد صاحب کے پاس آیا اور ایک حدیث کی کتاب کھول کر ان کے سامنے رکھ دی۔آپ نے پڑھ کر پوچھا کیا ہے؟ شیعہ نے کہا کہ منشائِ رسالت پناہی حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق معلوم ہوتا ہے فرماتے تھے میرے استاد صاحب نے نہایت متانت سے جواب دیا ہاں منشاءرسالت پناہی تو تھا مگر منشا ء الٰہی اس کے خلاف تھا اس لئے وہ منشاء پورا نہ ہو سکا۔میں اِس قرطاس کے متعلق پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی کہے تو یہ جواب دوں گا کہ حقیقۃ الوحی میں ایک جانشین کا وعدہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا خَلِیْفَۃٌ مِّنْ خُلَفَائِہٖ پس غصب کی پُکار بالکل بیہودہ اور عبث ہے۔حضرت صاحب کو الہام ہوا تھا۔سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را ایک شریف آدمی بھی امانت میں خیانت نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تو اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا کرائی۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ نَعُوْذُبِاللّٰہِ خدا تعالیٰ نے خیانت کی؟ توبہ کرو توبہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اتنا توکّل کہ وفات کے قریب یہ الہام ہوتا ہے پھر خدا نے نَعُوْذُبِاللّٰہِ یہ عجیب کام کیا کہ امانت غیر حقدار کو دے دی۔خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کر کے دکھا دیا کہ’’ سپردم بتو مایۂ خویش را‘‘ کے الہام کے موافق کیا ضروری تھا۔پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا (نَعُوْذُبِاللّٰہِ) گمراہی کرواتا ہے؟ ہرگز نہیں خدا تعالیٰ تو اپنے مرسلوں اور خلفاء کو اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ دنیا کو پاک کریں۔اس لئے انبیاء کی جماعت ضلالت پر قائم نہیں ہوتی۔اگر مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی گندی جماعت پیدا کی جو ضلالت پر اکٹھی ہوگئی تو پھر نَعُوْذُبِاللّٰہِ اپنے منہ سے ان کو جھوٹا قرار دو گے! تقویٰ کرو۔