انوارالعلوم (جلد 2) — Page 46
۴۶ تھا مگر نہیں اللہ تعالیٰ کو اطاعت سکھانا مقصود تھا۔وہ جنگ کے لئے جا رہے تھے اس لئے یہ امتحان کا حکم دے دیا اگر وہ اس چھوٹے سے حکم کی اطاعت کرنے کے بھی قابل نہ ہوں گے تو پھر میدانِ جنگ میں کہاں مانیں گے؟ بہرحال اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں حکمتیں ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرتا رہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایمان نصیب کر دیتا ہے اور اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔(چونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا آپ نے فرمایا کہ گھبرانا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعض وقت لمبی تقریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے آپ لوگوں کو جس غرض کے لئے جمع کیا گیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ پورے طور پر اس سے واقف ہو جاویں) غرض شرائع میں حکمتیں ہیں اگر ان کی حقیقت معلوم نہ ہو تو بعض وقت اصل احکام بھی جاتے رہتے ہیں اور پھر غفلت اور سُستی پیدا ہو کر مٹ جاتے ہیں۔کسی جنٹلمین نے لکھ دیا کہ نماز کسی بنچ یا کرسی پر بیٹھ کر ہونی چاہیے کیونکہ پتلون خراب ہو جاتی ہے۔دوسرے نے کہہ دیا کہ وضو کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے کفیں وغیرہ خراب ہو جاتی ہیں۔جب یہاں تک نوبت پہنچی تو رکوع اور سجدہ بھی ساتھ ہی گیا۔اگر کوئی شخص ان کو حکمت سکھانے والا ہوتا اور انہیں بتاتا کہ نماز کی حقیقت یہ ہے، وضو کے یہ فوائد ہیں اور رکوع اور سجود میں یہ حکمتیں ہیں تو یہ مصیبت کیوں آتی اور اس طرح وہ دین کو کیوں خیرباد کہتے۔مسلمانوں نے شرائع کی حکمتوں کے سیکھنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت لوگ مرتد ہو رہے ہیں اگر کوئی عالم ان کو حکمتوں سے واقف کرتا تو کبھی دہریت اور ارتداد نہ پھیلتا۔یہاں اسی مسجد والے مکان کے مالک حضرت صاحب کے چچا کا بیٹا مرزا امام الدین دہریہ تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب! کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ اسلام کی طرف توجہ کرنی چاہیے؟ کہنے لگا کہ میری فطرت بچپن سے ہی سلیم تھی لوگ جب نماز پڑھتے اور رکوع سجود کرتے تو مجھے ہنسی آتی تھی کہ یہ کیا کرتے ہیں۔یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہیں کسی نے حکمت نہ سکھائی، شرائع اسلام کی حقیقت سے واقف نہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دہریہ ہو گیا۔سو یہ کام خلیفہ کا ہے کہ حکمت سکھائے اور چونکہ وہ ہر جگہ تو جا نہیں سکتا اس لئے ایک جماعت ہو جو اس کے پاس رہ کر اِن حکمتوں اور شرائع کے حدود کو سیکھے پھر وہ اس کے ماتحت لوگوں کو سکھائے تا کہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔اِس زمانہ میں اس کی خصوصیت سے ضرورت ہے کہ لوگ جدید علوم پڑھ کر ہوشیار ہو رہے ہیں۔