انوارالعلوم (جلد 2) — Page 47
۴۷۔عیسائیوں نے اسلام پر اعتراض کیا ہے کہ عبادات کے ساتھ مادی امور کو شامل کیا ہے۔انہیں چونکہ شریعت کی حقیقت کی خبر نہیں اس لئے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں پس ضرورت ہے کہ واعِظ مقرر ہوں جو شرائع کی تعلیم دیں اور ان کی حکمت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔تعلیم العقائد کی کتاباس کے سوا ایک اور ضروری بات ہے حضرت صاحب کو اس کے متعلق بڑی توجہ تھی مگر لوگوں نے بھلا دی۔انا للہ و انا الیہ راجعونپھر حضرت خلیفۃ المسیح نے توجہ دلائی مگر لوگوں نے پھر بھلا دی۔میں اب پھر یاد دلاتا ہوں اور اِنْشَاء اللّٰہُ الْعَزِیْزُ میں اس کو یاد رکھوں گا اور یاد دلاتا رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تکمیل کے کام سے سُرخرو کردے۔میں نے حضرت صاحب سے بارہا یہ خواہش سنی تھی کہ ایسا رسالہ ہو جس میں عقائد احمدیہ ہوں۔اگر ایسا رسالہ تیار ہو جائے تو آئے دن کے جھگڑے فیصل ہو جائیں اور پھر نزاعیں برپا نہ ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ علماء کی ایک مجلس قائم کروں اور وہ حضرت صاحب کی کتابوں کو پڑھ کر اور آپ کی تقریروں کو زیر نظر رکھ کر عقائد احمدیہ پر ایک کتاب لکھیں اور اس کو شائع کیا جاوے۔اِس وقت جو بحثیں چھڑتی ہیں جیسے کفرواسلام کی بحث کسی نے چھیڑ دی اس سے اس قسم کی تمام بحثوں کا سدباب ہو جائے گا۔لیکن اب جب کہ کوئی ایسی مستند اور جامع کتاب موجود نہیں مختلف جھگڑے آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔کوئی کہتا ہے حضرت صاحب مسیح ناصری سے افضل تھے دوسرا کہتا ہے نہیں۔اِس کی جڑ یہی ہے کہ لوگوں کو واقفیت نہیں۔مگر جب ایسی جامع کتاب علماء کی ایک مجلس کے کامل غور کے بعد شائع ہو جاوے گی تو سب کے سب اسے اپنے پاس رکھیں گے اور اس طرح پر عقائد میں اِنْشَاء اللّٰہ اختلاف نہیں ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق وعظآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپؐ بہت ہی مختصر وعظ فرماتے لیکن کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپؐ وعظ فرما رہے ہیں اور ظہر کا وقت آگیا۔پھر نماز پڑھ لی۔پھر وعظ کرنے لگے اور عصر کا وقت آ گیا پھر نماز پڑھ لی۔پس آج کا وعظ اِسی سنت پر عمل معلوم ہوتا ہے۔میں جب یہاں آیا ہوں تو بیت الدعا میں دعا کر کے آیا تھا کہ میرے منہ سے کوئی بات ایسی نہ نکلے جو ہدایت کی بات نہ ہو۔ہدایت ہو اور لوگ ہدایت سمجھ کر مانیں۔میں دیکھتا ہوں کہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اور میں اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہوںمگر باتیں آ رہی ہیں اور مجھے بولنا پڑتا ہے۔پس میں