انوارالعلوم (جلد 2) — Page 611
۶۱۱ تو جائے غیرت تھی لیکن جبکہ وارث نبوۃ آنحضرت ﷺ کاہی ایک روحانی فرزند ہواتو غیرت کا کیا سوال؟ ۴۱۔اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ امتی نبی کا وجود ختم نبوت کی شان کو بند کرتا ہے مرزا محموداحمد۔۴۲۔اس عبارت سے ہر ایک صاحب فراست معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود جس نبوت کو بعد آنحضرت ﷺ بند فرماتے ہیں وہ در حقیقت شریعت لانے والی نبوت ہے یا جس نبوت سے آنحضرت ﷺ کی پیروی معطل ہونہ کہ نبوت بند ہے۔مرزا محمود احمد ۴۳۔اس عبارت پر غور کرد کیسا صاف ہے کہ آپ نے جس نبوت سے انکار کیا ہے وہ ایسی نبوت ہے جس کا ہونا قرآن کریم میں منع ہے نہ یہ کہ ہر ایک نبوت سے انکار کیا ہے۔۴۴۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ صرف اس نبوت سے انکار کرتے ہیں جس میں آپ آنحضرت ﷺ کی امت سے نکل جائیں یہ نہیں فرماتے کہ میں نبی ہوں ہی نہیں۔۴۵۔عبارت نہایت صاف طور پر ایک نبی اور ایک مامور میں فرق کرد کھاتی ہے کیونکہ اس میں بتایاگیا ہے کہ گو اس امت کے بعض افراد ملہم ہیں لیکن نبی وہ ہو تا ہے جس پر بکثرت امور غیبیہ کا اظہار ہو اور حضرت مسیح موعود اس بات کے مد عی ہیں کہ مجھ پر أمور غیبیہ کثرت سے ظاہر کئے جاتے ہیں پس آپ دو سرے مامور ملہموں میں شامل نہیں بلکہ نبیوں میں شامل ہیں۔مرزا محمود احمد۔۴۶۔اس حوالہ میں بھی آپ نے نبوت کی شرائط کا اقرار کیا ہے۔۴۷۔اس جگہ بھی صرف قسم کی نبوت سے انکار کیا ہے جو پہلے نبیوں کو براہ راست ملتی تھی نہ کہ نبوت سے بلکہ فرمایا ہے کہ یہ نبوت اتباع خاتم النبیین سے ملتی ہے۔۴۸۔اس عبارت سے بھی صاف ظاہر ہے کہ آپ کثرت مکالمہ کادعویٰ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کا نام نبوت ہے ہاں جاہل لوگ اسے نبوت خیال نہیں کرتے اور اس جگہ اورلفظ رکھنا چاہتے ہیں۔۴۹۔صاف ظاہر ہے کہ آپ نبی ہونے سے انکار نہیں کرتے بلکہ مستقل نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نبوت براہ راست نہیں پائی بلکہ آنحضرت ﷺکے واسطہ سے پائی ہے۔مرزامحموداحمد۔۵۰۔اس عبارت کا بھی مطلب ظاہر ہے کہ مستقل نبی جس نے براہ راست نبوت پائی ہو اب نہیں آسکتا اور نہ حضرت مسیح موعود کاایسا دعوی تھاپس نبی کا نام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو دیا تویہ ایک اعزازی نام تھا۔اور اس سے صرف یہ مراد تھی کہ درجہ نبوت کو پہنچ گئے ورنہ اس سے یہ مطلب نہ تھا کہ آپ نے براہ راست نبوت حاصل کی ہے یا یہ کہ آپ شریعت اسلام کے ناسخ ہیں اور اگر اس سے مرادیہ لیا جائے کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ یو نہی نام رکھ دیا گیاتھاتواس سے مشابہت بہ مسیح نہیں ثابت ہوتی کیونکہ ایک آدمی کو اگر شیر کہہ دیا جاوے تو اس سے اسے شیرسے مشابہت تو پیدا نہیں ہو جاتی۔بلکہ اس سے تو یہ مراد ہے کہ یہ شیر سے بہادری میں مشابہ ہے نہ یہ کہ شیر کہنے سے شیر کے مشابہ ہوگیا ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ اگر نبی بھی مان لو۔پھر بھی مشابست پیدا نہیں ہوتی کیونکہ حضرت مسیح نے براہ راست نبوت پائی تھی اور حضرت مسیح موعود نے بواسطہ آنحضرت ﷺ تواس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص نبی ہو گیا اس کی دوسرے نبیوں سے مشابہت ہو گئی مشابہت کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ نبوت کس طریق سے ملی ہے۔ایک کپڑا کو دوسرے کپڑا کے مشابہ کہیں اور اس کی شکل اور اس کی صفت کے لحاظ سے اس کی مشابہت درست ہو تو ایسا کہنادرست ہوگایہ ضروری نہیں کہ اگر ایک مشین کا بنا یاہوا ہے تو دوسرا بھی مشین کاہی بنایا گیا ہو۔خواہ ہاتھ سے بنایا گیا ہو یا مشین سے، جب شکل صورت صفت میں مشابہ ہے تو اسے مشابہ ہی کہیں گے اور یہ کبھی نہ ہو گا کہ ایک ململ کے تھان کا نام لٹھے کا تھان رکھ دیں کہ تا دوسرے لٹھے کے تھانوں سے اس کی مشابہت ہو جائے مشابست تو تبھی ہوگی کہ جب دونوں لٹھے کے تھان ہوں ہاں اس کی ضرورت نہیں کہ وہ دونوں بنائے بھی ایک ہی طرح ہوں بعینہ اسی طرح ایک شخص دوسرے سے نبوت کے معاملہ میں تبھی مشابہ ہو گا جب اسے واقع میں بھی بتادیا جائے نہ اس طرح کہ صرف اس کانام بھی رکھ دیا جائے اور اگر واقع میں اسے نبی بنادیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہو جائیں گے اور یہ سوال نہ ہو گا کہ ان دونوں کو نبوت کس طریق سے ملی ہے نبوت خواہ بلاواسطہ ملے یا بالواسطہ اس سے کوئی حرج نہیں ہو تامگر شاید کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود نے تو اپنے آپ کو حضرت مسیح سے تمام شان میں افضل قرار دیا ہے پھر مشابہت کہاں رہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود صرف مسیح موعود نہ تھے بلکہ مہدی کا عظیم الشان ظہور ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا بھی بروز تھے۔پس مسیحیت کے لحاظ سے آپ مسیح کے مشابہ تھے لیکن آنحضرت ﷺ کابروز کامل ہونے کی وجہ سے اس سے افضل تھے اور مشابہت میں اس سے فرق نہیں آتا یہاں ایک اور شبہ بھی پیدا کیا جاسکتا ہے اوروه یہ کہ آنحضرت ﷺ تو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل فرماتے ہیں اور اپنی امت کے علماء کو بنی اسرائیل سے مشابہ قرار دیتے ہیں اس لئے کیا پھر سب علماء نبی تھے اور انکو نبی کہنا جائز ہے کیونکہ تم نے مشابہت کے معنے یہی کئے ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ