انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 610

۶۱۰ ۳۰۔اس عبارت میں بھی وہی بات دہرائی گئی ہے کہ ان کے درجہ کا نام محدث ہے نہ نبی اور یہ کہ آپ بہت سے محدثوں میں سے ایک محدث ہیں اس امت میں کوئی نبی نہ آئے گانہ نیانہ پرانا۔لیکن اس جگہ بھی یہ نہیں فرمایاکہ آپ کو کثرت سے امور غیبیہ پراطلاع۔نہیں دی جاتی۔اور باقی باتوں کا جواب آگے مفصل آئے گا۔مرزا محمود احمد ۳۱۔اس جگہ بھی گو فرمایا ہے کہ میں نبی نہیں رسول نہیں لیکن یہ انکار نہیں کیا آپ کو اظهار على الغیب کا مرتبہ حاصل نہ تھا بلکہ فرماتے ہیں کہ رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور نام نبی کے انکار کی وجہ آگے تائی جائے گی۔مرزامحمود احمد ۳۲۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ نے انبیاء کے انعامات پانے کادعوی کیا ہے۔گویا اس کے نام بدلے ہیں اور اس کی وجہ آگے مذکور ہو گی۔مرزا محمود احمد ۳۳۔اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ آپ ایسانبی ہونے سے منکر ہیں جو قرآن شریف کو چھوڑ کر اور شریعت لائے۔مرزا محموداحمد۔۳۴۔نوٹ۔ایسے لفظ نہ اب سے بلکہ سولہ برس سے میرے الہامات میں درج ہیں چنانچہ براہین احمدیہ میں ایسے کئی مخاطبات الہٰیہ میری نسبت پا ؤگے۔منہ (حضرت مسیح موعود) ۳۵۔اس عبارت سے پہلی سب تحریر حل ہوگئی اور وہ یہ کہ آپ نے خود فرمایا ہے کہ نبی سے مراد وہ نبی ہے جو آپ براہ راست نبی بن جائے اور آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر کوئی الگ دین بنائے اور ہم حضرت مسیح موعود کو ایسا نبی ہر گز نہیں مانتے۔مرزا محمود احمد۔۳۶۔اس جگہ بھی حضرت مسیح موعود نے یہ انکار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آسکتانبی کالفظ صرف ایک معمولی محاورہ ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ مجھے امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع نہیں دی جاتی جو صرف رسولوں کو ملتی ہے نبی کے لفظ سے انکار کی تشریح آگے کی جائے گی۔مرزا محموداحمد ۳۷۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو لغوی معنوں میں نبی قرار دیتے ہیں اور میں بتا آیا ہوں کہ لغوی معنے نبی کے وہی ہیں جو قرآن کریم نے نبی کے کئے ہیں۔پس آپ کی نبوة ثابت ہے ہاں یہ جو فرمایا کہ اسلامی اصطلاح کے معنے الگ ہیں اس۔کا مطلب آگے بیان کیا جائے گا۔مرزا محمود احمد۔۳۸۔اس حوالہ سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لانبی بعدہ کے آپ یہ معنے نہیں کرتے کہ نبی ہو گا ہی نہیں بلکہ یہ کہ وہی نبی ہوگا جو آپ کےفیض سے نبی بنا اور آپ کے وعدہ نے اسے ظاہر کیا۔۳۹۔دیکھو اس جگہ اس نبی سے اولیاء کو علیحدہ کیا ہے کہ ایک توده نبی ہے جو آپ کے فیض سے نبی ہوا اور جس کی بابت آپ کی پیشگوئی تھی کہ وہ نبی اللہ ہو گا۔اور ایک اولیاء ہیں کہ ان کو بھی مکالمات و مخاطبات سے حصہ ملتاہے لیکن اولیاء کے لئے کثرت کی شرط نہیں لگائی صرف مکالمات و مخاطبات فرمایا ہے اگر کوئی شخص کہے کہ بعض جگہ حضرت مسیح موعود نے اپنی نسبت بھی کثرت کالفظ ترک کردیا ہے سو کیوں نہ خیال کیا جاوے کہ اس جگہ بھی کثرت مراد ہے گو لفظ کثرت کا ترک کردیا ہے تویاد رہے کہ بے شک حضرت مسیح موعود اپنی نسبت بھی بعض جگہ کثرت مکالمہ کی بجائے مکالمہ کالفظ استعمال کر جاتے ہیں لیکن جبکہ دوسری جگہوں میں آپ نے اپنے مکالمہ کے ساتھ کثرت اور امور غیبیہ کی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔تو اگر بعض جگہ آپ ان الفاظ کو ترک کر دیں تو بھی ہمیں ان کاوہی مفهوم سمجھنا پڑے گا۔لیکن دیگر اولیاء کے ساتھ آپ نے کثرت مکالمہ اور کثرت سے امور غیبیہ کے اظہار کی شرط نہیں بیان فرمائی۔پس اس جگہ کثرت کا مفہوم نہیں نکال سکتے اور اس حوالے سے دو الگ چیزیں ثابت ہیں ایک نبوت کا وجود جو فیض محمدی سے حاصل ہونے والی تھی اور ایک ولایت کاوجود وہ بھی فیض محمدی سے حاصل ہوتاہے لیکن اس کے لئے کثرت مکالمات شرط نہیں اور جو لوگ ان اولیاء کو بھی نبیوں کے گروہ میں شمال کریں جن کی نسبت قرآن کریم میں اظہار على الغیب کی شرط لگی ہوئی ہے وہ یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود نے ان کی نسبت شیطان کالفظ استعمال فرمایا ہے۔مرزا محموداحمد۔۴۰۔ختم نبوت کے معنی بھی اس جگہ صاف کر دیئے ہیں کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ کوئی نبی آپ کے بعد نہ آئے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ پر سب کمالات ختم ہو گئے۔اور لا نبی بعدی کے معنی بھی بتائے کہ آپ کے بعد کوئی ایسانبی نہیں جو آپ کی امت سے باہر ہو نہ یہ کہ کوئی نبی ہو گاہی نہیں ایک اور لطیف بات بھی اس جگہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ایسا نبی ہو نا مقام غیرت نہیں جس سے آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر آپ غیرنبی تھے تو غیرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتاغیرت کا سوال تو تبھی پیدا ہو سکتا تھاجب آپ نبی ہوتے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ غیرت کا سوال اس لئے پیدا نہیں ہوتا کہ گو میں نبی ہوں لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے نور اور روحانیت سے نبی بنا ہوں اس لئے مقام غیرت نہیں اور یہ جواب بالکل درست ہے ایک باپ غیور ہو تا ہے اس بات پر کہ اس کامال کوئی اور نہ سنبھال لے لیکن اپنے بیٹے کے وارث ہونے پر تو خوش ہوتا ہے اسی طرح اگر کوئی براہ راست نبوت پاتا