انوارالعلوم (جلد 2) — Page 560
۵۶۰ ( الفتوحات المكيہ جلد ۲ صفحہ۶) یعنی رسول اللہ ﷺ کی کرامت میں سے یہ بھی ہے آپ کی امت میں سے اور آپ کے اتباع میں سے رسولوں کی شان رکھنے والے لوگ پیدا کئے گئے ہیں گودہ رسول کر کے نہیں بھیجے گئے پس وہ ان مدارج تک پہنچ جاتے تھے پس اس بات کو سمجھ لے پس جب آنحضرتﷺ وفات پا گئے تو بے امراسی طرح ان رسولوں کی معرفت محفوظ رہا۔اور جس ذریعہ سے دین اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت رہا۔اس کا کوئی رکن گرا نہیں۔کیونکہ ہر وقت اس کا کوئی نہ کوئی حافظ موجود رہا۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں ایسے صاحب کمالات لوگ پیدا ہوئے ہیں کہ جو اس مقام تک پہنچے کہ جہاں سے رسالت کابعث ہوتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کے علوشان کی وجہ سے انہیں رسول کرکے مبعوث نہیں کیاگیا۔بلکہ وہ اولیاء میں ہی شامل رہے گو جزوی طور پر آنحضرت اﷺکے کمالات کا مظہر ہونے کی وجہ سے وہ رسولوں کے مشابہ ہو گئے مگر مسیح موعود کی شان اور ہے۔جیسا کہ خود ابن عربی صاحب مسیح موعود کی نسبت تحریر فرماتے ہیں فلہ یوم القیمة حشر ان یحشر مع الرسول رسولا و یحشر معنا ولیا تابعا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی مسیح موعود کے قیامت کے دن رو حشر ہوں گے ایک رسولوں کے ساتھ رسول کی حیثیت سے اور ایک ہم اولیاء کے ساتھ ایک کامل ولی متبع رسول الله ﷺ کے طور پر حضرت ابن عربی صاحب نے ان دونوں عبارتوں میں ان مطالب کو جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔نہایت طاقت سے بیان کیا ہے۔یعنی ایک رنگ میں محدثین کو رسولوں سے مشابہت بھی دی ہے اور پھر یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ رسول نہیں بنے۔اس کے مقابلہ میں مسیح موعود کو دور رنگ دیئے ہیں ایک تو یہ کہ وہ رسول بنا۔اور دوسرا یہ کہ وہ امتی بھی رہا۔پس قیامت کے دن اس کی دو شانیں ہوں گی۔ایک رسول کی شان اور ایک ان دو سرے اولیاء کی شان۔جو اپنی بعض شان میں رسولوں کے مشابہ ہوئے لیکن رسول نہ بنے۔اگر حضرت ابن عربی صاحب کا یہ منشاء ہو تا۔کہ دیگر اولیاء بھی رسول بن گئے تھے۔جس طرح مسیح موعودؑ۔تو وہ یہ نہ لکھتے کہ صرف مسیح موعود کے دو حشر ہوں گے۔بلکہ سب اولیاء کے اس طرح کے دو حشر بیان کرتے لیکن انہوں نے اس رسالت کے پانے والوں کو جو اولیاء پاتے ہیں صرف امتی ہی رکھا ہے نبیوں کے گروہ میں شامل نہیں کیا۔اور اس کی یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کی وجہ سے نبوت کا معیار بہت اونچا ہوگیا ہے او را س با کمال رسول کی پیدائش سے جو سب نبیوں کا سردار تھا اس عہدہ کی اہمیت اس سے بہت