انوارالعلوم (جلد 2) — Page 559
۵۵۹ سب دنیا کی طرف مبعوث نہیں ہوا۔حالانکہ مسیح موعودسب دنیا کی طرف مبعوث ہوا۔خواہ وہ کسی علاقہ کے ہوں۔اب سب دنیا میں اس کے لئے نشانات دکھائے گئے پس مسیح موعود کے سوا کوئی گزشتہ ولی آنحضرتﷺ کا مظہراتم نہیں ہوا تااسے نبی کہا جا سکے۔اور اگر بغیر مظہراتم ہونے کے اسے نبی قرار دیا جاتا۔تو چونکہ امت محمدیہ میں نبوت ظلّی ہے ختم نبوت کا امر مشتبہ ہو جاتاس امت میں صرف ایک شخص مسیح موعود ہی ہے جس کے مظہراتم ہونے کی شہادت اللہ تعالی ٰنے قرآن کریم میں تو اپنے قول سے دی ہے۔اور رسول اللہ اﷺکی طرح سب دنیا کی طرف مبعوث کر کے اس کے مظہراتم ہونے کی شہادت اپنے فعل سے دی ہے۔پس مسیح موعود کے مظہراتم ہونے کے لئے خدا تعالی ٰکی قولی اور فعلی دونوں شہادتیں موجود ہیں۔اور وہی نبی کہلا سکتا ہے نہ کوئی اور۔ہاں جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں۔پہلے مجددین اور اولیاء محدث تھے۔اور محدث کو بھی چونکہ انبیاء سے ایک مشابہت ہوتی ہے اور چونکہ وہ بھی آنحضرت ﷺ کے بعض کمالات کے مظہر تھے۔وہ بھی جزوی نبوت سے حصہ لیتے رہے ہیں۔یعنی بعض کمالات ثبوت ان کے اندر بھی موجود تھے اور اگر امت محمدیہ میں نبوت ظلّی نہ قرار دی جاتی تو ممکن تھا کہ ان میں سے بعض اعلىٰ استعدادوں والے محدث نبی ہو بھی جاتے لیکن چونکہ اس امت میں ختم نبوت کی وجہ سے نبوت کا درجہ بڑھ گیا ہے اور اب نبی وہی ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ كامظہرا تم ہو اس لئے وہ نبی نہ بن سکے۔ہاں اپنے استعدادات کی وجہ سے بعض کمالات نبوت انہوں نے حاصل کئے۔اس لئے جزوی نبوت پائی۔چنانچہ بہت سے صوفیاء نے اپنی کتب میں اپنے اندر اپنے کمالات پائے جانے کا دعویٰ کیا ہے اور ہم ان کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ راستباز اور خداتعالی ٰکے برگزید ہ یقین کرتے ہیں۔ان کو بھی رسول اللہﷺ کی بعض شان کا ملہراتے ہیں۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض آنحضرت کی بعض شان کے مظہراتم بھی ہوں یعنی بعض کمالات کو انہوں نے کامل طور پر بلحاظ ظلّیّت حاصل کر لیا ہو۔چنانچہ مکرم مولوی غلام احمد صاحب اختر نے اوچ سے حضرت محی الدین ابن عربی کا ایک حوالہ فتوحات سے نقل کر کے بھیجا ہے جو یہ ہے تین فمن کرامة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محمد ان جعل من امتہ و اتباعہ رسلا وان لم یرسلوا فھم من اھل المقام الذی منہ یرسلون و قد کانوا ارسلوا فعلم ذالک فلما انتقل محمد صلی اللہ علیہ وسلم بقی الامر محفوظا بھؤلاء الرسل فثبت الدین قائما بحمداللہ ماانھدم منہ رکن از کان لہ حافظ یحفظہ