انوارالعلوم (جلد 2) — Page 558
۵۵۸ دوسرے خلفاء و محدث نبی کہلاتے تو اس سے ختم نبوت میں نقص آجا تا۔کیونکہ امت محمدیہ میں کسی کونبی کہنے سے یہ مراد ہے۔کہ وہ آنحضرت ﷺ میں ایسافنا ہوا ہے کہ بالکل آپ کا عکس بن گیا ہے۔اور آپ ؐکے کل کمالات کو اس نے اپنے اندر لے لیا ہے لیکن پہلے مجددین اس درجہ کونہ پہنچے تھے۔اس لئے ان کو نبی قرار دینے کے یہ معنی ہوتے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا کامل بروز ہیں۔حالانکہ وہ خاتم النبّین یعنی جامع جمیع کمالات نبوت کے مظہراتم نہ تھے۔بلکہ بعض کمالات کا مظہر تھے پس ان کو نبی قرار دے کر انہیں رسول اللہ ﷺ کا نمونہ قرار دینے سے ختم نبوت کی شان لوگوں کے دلوں سے کم ہو جاتی۔اور ان مجددین پر رسول اللہ اﷺکے سب کمالات کو قیاس کرتے اور دھوکا کھاتے۔کیونکہ وہ تمام کمالات کے مظہر نہ تھے۔لیکن مسیح موعود آنحضرت ﷺکے مظہر اتم تھے اور آپ کے وجود کو اللہ تعالی ٰنے قرآن کریم میں آنحضرت ﷺکا وجود قرار دیا ہے۔پس آپ ہی خاتم النبّین کی شان کو ظاہر کرنے والے تھے۔جیساکہ آپ فرماتے ہین من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی و ما اری (خطبہ الہامیہ صفحہ ۲۵۹ روحانی خزائن جلد ۶اصفحہ ۲۵۹)اس کےیہ معنے ہیں کہ آپ کا اور آنحضرت ﷺ کا درجہ ایک ہو گیا۔بلکہ آپ کا درجہ تو آنحضرتﷺکے مقابلہ میں غلام اور شاگرد کا سا تھا۔لیکن کامل بروزی تصویر ہونے کے لحاظ سے نہیں کہہ سکتے کہ مرزا غلام احمد اور ہے اور محمد مصطفیٰ اور پس یہی شخص نبی کہلانے کا مستحق ہوا۔تاختم نبوت کا امر مشتبہ نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ ختم نبوت کے دو معنے جو حضرت صاحب نے کئے ہیں۔ان میں سے ایک نے توشریعت جديده لانے والی نبوت اور براہ راست حاصل ہونے والی نبوت کا دروازہ مسدود کر دیا۔اور ختم نبوت کے دوسرے معنوں نے یعنی آنحضرت ﷺکے جامع جمیع کمالات انبیاء ہونے نے ایسے کل لوگوں کو جو آنحضرت ﷺ کے کامل پروزاور مظہراتم نہ ہوں درجہ نبوت پانے سے روک دیا۔اور ایسا شخص جو آپؐ کا مظہرا تم ہو۔چونکہ مسیح موعودہی ہوا جس کے کامل مظہر ہونے کی گواہی قرآن کریم کی آیت واخرین منھم بھی دے رہی ہے۔اس لئے وہی نبی کہلا یا تااس کی نبوت ختم نبوت کے لئے ایک نشان ہو۔اور لوگ اس کو دیکھ کر اس کے آقا اور استاد حضرت محمد مصطفےﷺ کے کمالات کو معلوم کریں اور اپنے بوسیدہ ایمانوں کو پھر تازہ کر لیں اور صحابہؓ کے ساتھ مشابہت حاصل کریں۔چنانچہ ایک طا ہر فرق مسیح موعود میں اور پہلے مجد دین میں یہ دیکھ لو کہ ان میں سے ایک بھی