انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 551

۵۵۱ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی تو جس قدر قسمیں نبیوں کی بلحاظ درجہ کے فرق کے بنیں گی وہ بھی ہمیں ماننی پڑیں گی۔پھر اس کےماننے کے بغیر بھی چارہ نہیں کہ ایک نبی شریعت لاۓ ایک نہیں لائے۔ایک نبی ایسا آیا جو سب دنیا کی طرف تھا۔پہلے نبی ایسے نہ تھے پس خصوصیات کے لحاظ سے تین کیا سینکڑوں قسمیں بن سکتی ہیں۔میں نے تو ان تین کا ذکر کیا تھا جن کا میرے مضمون سے تعلق تھا۔میں نے اقسام نبوت کو گننے کا تو ارادہ نہیں کیا تھا۔ہاں یہ یاد رہے کہ نفس نبوت کے لحاظ سے میں ایک ہی نبوت مانتا ہوں جسے آپ نے نبیوں کی نبوت کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ہاں محدث کی نبوت جو میرے کلام میں آتی ہے یا حضرت مسیح موعود کے کلام میں آتی ہے اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اس میں بعض کمالات نبوت پائے جاتے ہیں جو بوجہ درجہ کمال کو نہ پہنچنے کے اسے نبی نہیں بنا سکتے۔پس ان کمالات کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ محدث میں بھی ایک قسم کی نبوت ہے یا یہ کہ محدث بھی ایک قسم کانبی ہے ورنہ نفس نبوت کے وجود کی وجہ سے نہ اسے نبی کہہ سکتے ہیں اور نہ اس میں کسی نبوت کو مان سکتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے کہیں تو یہ لکھا ہے کہ محدث میں ایک جزوی نبوت ہوتی ہے۔اور کہیں لکھا ہے کہ محدث کو کس لغت میں نبی کہتے ہیں؟ پس یہ دونوں قول اوپر کے بیان کردہ اعتباروں کے لحاظ سے ہیں اور دونوں درست ہیں۔اب میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے صاف فیصلہ سے ظاہر ہے کہ آپ سے پہلے اس امت میں کوئی اور نبی نہیں گزرا لیکن اس حوالہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود کی اور تحریروں سے بھی یہ پتہ لگتا ہے کہ آپ سے پہلے اس امت میں کوئی اور نبی نہیں گزرا۔آپ فرماتے ہیں:۔’’حکمت الہٰی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو بر عایت ختم نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے۔اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے۔تا ختم نبوت پر یہ نشان ہو۔پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تاخلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے اور ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کی نبوت ظلّی طور پر ہے کیوں کہ وہ آنحضرت اﷺکا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔‘‘ (تذکرة الشہاد تین صفحہ ۴۵ ،روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵) اس حوالہ سے بھی صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کوئی اور شخص اس امت میں سے نہیں گزرا بلکہ صرف مسیح موعودنے ہی یہ نام و مرتبہ پایا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود فرماتے