انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 527

۵۲۷ کہ خدا سے الہام پاکر بکثرت پیشگوئی کرنے والا اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہوسکتے۔(آخری خط مندر جہ اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) (۳۰) * پس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانے میں کثرت مکالمه مخاطبہ الہیه اور کثرت اطلاع بر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے۔(آخری خط حضرت اقدس مندر جہ اخبار عام ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء) (۳۱) \" ہمارادعوی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالی جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخالبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت رو سروں سے بہت بڑھ کر ہو۔اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔پس ہم نبی ہیں۔“ (بدر۵ مارچ ۱۹۰۸ء ) (۳۲) \"جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیو نکرانکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“ (آخری خط حضرت اقدس مندر جہ اخبار عام ۲۶/ مئی ۱۹۰۸ء) (۳۳) میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہوں تاکہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہو گا۔اور نبی بھی ہوگا۔(آخری خط مندر جہ اخبار عام ۲۶/ مئی ۱۹۰۸) (۳۴) یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب آسمان سے مقرر ہو کر ایک نبی یا رسول آتا ہے تو اس نبی کی برکت سے عام طور پر ایک نور حسب مراتب استعدادات آسمان سے نازل ہوتا ہے۔اور انتشار رو حانیت ظہور میں آتا ہے تب ہر ایک شخص خوابوں کے دیکھنے میں ترقی کرتاہے اور الہام کی استعداد رکھنے والے الہام پاتے ہیں اور روحانی امور میں عقلیں بھی تیز ہو جاتی ہیں۔کیونکہ جیسا کہ جب بارش ہوتی ہے ہر ایک زمین کچھ نہ کچھ اس سے حصہ لیتی ہے۔ایاہی اس وقت ہوتا ہے جب رسول کے بھیجنے سے بہار کا زمانہ آتا ہے، تب ان ساری برکتوں کا موجب دراصل وہ رسول ہوتا ہے۔اور جس قدر لوگوں کو خواہیں با الهام ہوتے ہیں۔دراصل ان کے کھلے کا دروازہ وہ رسول ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ دنیا میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور آسان سے عام طور پر ایک روشنی اترتی ہے۔جس سے ہر ایک شخص سب استعداد حصہ لیتا ہے وہی روشنی خواب اور الہام کا موجب ہو جاتی ہے اور باران خیال کرتا ہے کہ میرے ہنر سے آیا ہوا ہے گردہ چشمہ الہام اور خواب کا صرف اس نبی کی برکت سے دنیا پر کھولا جاتا ہے۔اور اس کا زمانہ ایک *بحوالہ البدر ۱۱ جون ۱۹۰۸ص۱۰