انوارالعلوم (جلد 2) — Page 528
۵۲۸ لیلۃ القدر کا زمانہ ہوتا ہے جس میں فرشتے اترتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍسلم ( القدر :۵-۶)جب سے خدا نے دنیا پیدا کی ہے یہی قانون قدرت ہے۔منہ (حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۹) (۳۵) اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں“(چشمه معرفت صفحہ ۷۷، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۸۵) (۳۶) کبھی نبی کی وحی خبر واحد کی طرح ہوتی ہے۔اور مع ذالک مجمل ہوتی ہے۔اور کبھی وحی ایک امرمیں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔پس میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبرواحد کی طرح ہو اور مجمل ہو۔( لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۴۵) (۳۷) اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قد ر نیک اور راستباز مقدس میں گزر چکے ہیں۔ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔سورہ میں ہوں اسی طرح اس زبان میں تمام بروں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا۔یا ابوجہل ہو۔سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ منہ۱۸۷) (۳۸) ” ایمان در حقیقت وی ایمان ہے جو خدا کے رسول کو شناخت کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ہاں جو شخص سرسری طور پر رسول کا تابع ہو گیا۔اور اس کو شناخت نہیں کیا۔اور اس کے انوار سے مطلع نہیں ہوا اور اس کا ایمان بھی کچھ چیز نہیں اور آخر وہ ضرور مرتد ہو گا۔جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور عبداللہ بن ابی سرح اور عبید اللہ بنشیں آنحضرت ا کے زمانہ میں۔اور پورا اسکریو ملی اور پانو اور عیسائی مرد حضرت علی کے زمانہ میں۔اور جموں والا چراغ دین اور عبدالعلیم خان ہمارے اس زمانہ میں مرتد ہوئے۔(حقیقت الوی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۳) (۳۹) سخت عذاب بغیر ہی قائم ہونے کے آتانی نہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالی فرماتا ہے وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھارہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔اے نانلو! تلاش تو کرد شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“ تجلیات الہٰیہ ،روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۰۱،۴۰۰) آٹھویں دلیل۔حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ قرآن کریم میں نبیوں کے۔