انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 524

۵۲۴ (۲) "جس آنے والے مسیح موعو دکاجدثیوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہو گا۔اورامتی بھی۔( حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۱) (۳) ”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔‘‘ (۴) ”خدا تعالی ٰنے مجھے انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے۔اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔میں آدم ہوں۔میں شیث ہوں۔میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں۔میں اسحٰق ہوں۔میں اسمٰعیل ہوں۔میں یعقوب ہوں۔میں یوسف ہوں۔میں موسیٰ ہوں۔میں داؤد ہوں۔میں عیسیٰ ہوں۔اور آنحضرت اﷺکے نام کا میں مظہراتم ہوں۔یعنی ظلّی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۷۶ حاشیہ) (۵) (الہام) يومئذ تحدث اخبارھا بان ر بك أوحي لها (ترجمہ از حضرت مسیح موعودؑ) ’’اس دن زمین اپنی باتیں بیان کرے گی کہ کیا اس پر گزراخدااس کے لئے اپنے رسول پر وحی نازل کرے گا کہ یہ مصیبت پیش آتی ہے۔" (حقيقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۵) (۶) "خدا کی مہرنے یہ کام کیا۔کہ آنحضرتﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلوسے وہ امتی ہے۔اور ایک پہلوسے نبی\" (حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۹،۱۰۰ حاشیہ) (۷)" اور خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت اﷺکی امت میں بنی اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہوں گے۔اور ایک ایسا ہو گا کہ ایک پہلوسے نبی ہو گا۔اور ایک پہلو سے امتی- وہی مسیح موعود کہلائے گا‘‘۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ سصفحہ ۱۰۴ حاشیہ ) (۸) خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضئہ رو حانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا\" (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ھاشیہ۱۵۴) (۹) پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری پانی کے لئے ایک نشان ہے یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں کذب ہو۔مگراس نگزیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں۔حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۹۵) (۱۰) ” اور کانگڑہ اور بھاگو کے پہاڑ کے صد ہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہو گئے ان کا کیا قصور تھا۔*حقيقة الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ ص۶۴ حقيقة الوحی