انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 444

۴۴۴ کتب میں آپ نے اپنے نبی ہونے سے صریح الفاظ میں انکار کیا ہے اور اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص اور محدثوں کی نبوت قرار دیا ہے وہ سب کے سب بلا استثناء ۱۹۰۱ء سے پہلے کی کتب ہیں (اور یہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ تریاق القلوب بھی انہی کتب میں سے ہے اور ۱۹۰۱ ءکے بعد کی کتب میں سے ایک کتاب میں بھی اپنی نبوت کو جز ئی قرار نہیں دیا اور نہ ناقص اور نہ نبوت محد ثیت – اورنہ صاف الفاظ میں کہیں لکھا ہے کہ میں نبی نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میں شریعت والا نبی اور براہ راست نبوت پانے والا بھی نہیں ہوں۔ہاں ایسانبی ضرور ہوں جس نے نبوت کا فیضان بواسطه آنحضرتﷺ پایا ہے۔اس اختلاف سے اتناتو ضرور معلوم ہو جا تا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعودنے اپنے عقیدہ میں ایک تبدیلی ضرور کی ہے۔یعنی پہلے اپنی نبوت کو محد ثیت قراردیتے تھے۔لیکن بعد میں اس کا نام نبوت ہی رکھتے ہیں۔اور نبوت کا انکار نہیں کرتے بلکہ شریعت جديده لانے اور براہ راست نبوت پانے کا انکار کرتے ہیں۔پھر جب ہم آپ کی کتاب حقیقۃالوحی کو دیکھیں تو اس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں آپ نے اپنے عقیدہ میں کوئی تبدیلی ضرور کی ہے کیونکہ آپ اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خداکے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسکو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیامگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلوسے امتی“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۱۵۳۔۱۵۴ ) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ پہلے اپنے آپ کو اس بناء پر کہ مسیح نبی ہے اور آپ غیرنبی۔مسیح سے افضل نہیں سمجھتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کی وحی میں بار بار آپ کا نام نبی رکھا گیا تو آپ نے اس عقیدہ میں تبدیلی کرلی اور اپنے آپ کومسیح سے افضل قرار دیا یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنی نبوت کا اقرار کیا کیونکہ غیرنبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا اور چونکہ تریاق القلوب کے زمانہ تک آپ نے اپنے آپ کو مسیح سے کلی طور پر افضل ہونے کا انکار کیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا ہے اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ءمیں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان