انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 443

۴۴۳ اصطلاح ربانی و عقید و انبیائے سابقین و نسب حضرت مسیح موعودؑو لغت عرب کے بیان کر کے بتایا ہے کہ یہ تعریف من كل الوجوه حضرت مسیح موعود پر صادق آتی ہے۔اور جس قدر شرائط نبی ہونے کے لئے ہیں۔وہ سب آپ میں پائی جاتی ہیں۔اور آپ شروع دعویٰ مسیحیت سے اس بات کا اقرار فرماتے رہے ہیں کہ وہ شرائط آپ کے اندر پائی جاتی ہیں۔پس آپ نبی ہیں۔اور اگر حضور علیہ الصلاة والسلام نے کسی جگہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ میں کوئی شریعت نہیں لایا۔یا یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے آنحضرت ﷺکے طفیل سے پایا ہے۔اس کا یہ مطلب نکالنا کہ آپ نبی نہ تھے غلط ہے کیونکہ یہ باتیں شرائط نبوت سے نہیں ہیں۔اور جو باتیں شرائط نبوت سے ہیں۔ان کا انکار حضرت مسیح موعودؑنے کبھی نہیں کیا۔اس کے بعد میں ایک اور ضروری امر بھی کچھ تحریر کرنا ضروری خیال کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود اس بات کے مقرّتھے کہ آپ کے اندر سب شرائط نبوت پائی جاتی ہیں تو کیوں آپ اپنی بعض تحریرات میں نبی ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں اور صاف لکھتے رہے ہیں کہ آپ نبی نہیں بلکہ محدث ہیں۔اور یہ کہ آپ کی نبوت صرف محدثوں والی نبوت ہے نہ کہ کسی اور قسم کی۔گو یہ ممکن تھا کہ میں صرف یہ کہہ کر اس مضمون کو ختم کردیتا کہ حضرت مسیح موعودؑ خو دلکھ چکے ہیں کہ میرے انکار سے صرف شریعت جدیدہ اور نبوت بلاواسطہ مراد ہے۔لیکن چونکہ میں چاہتا ہوں کہ حتی الامکان اس رسالہ میں ایسے کل امور کا جو مسیح موعود کی نبوت کے متعلق ہیں۔اصولی طور پر فیصلہ کیا جائے۔اس لئے میں صرف اس جواب پر کفایت کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ اس اصل سبب کو کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔جو اس اختلاف کا باعث ہوا ہے۔اور اس غلطی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جس میں پڑ کر بعض لوگوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کردیا اور میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ اس غلطی کو اچھی طرح سمجھ لیں گے۔وہ معلوم کرلیں گے کہ مو جو دہ اختلاف کسی طرح اور کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔اور ان کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ایک لحاظ سے تو حضرت مسیح موعودؑ کی ابتدائی تحریرات اور آخری تحریرات میں اختلاف ہے اور ایک طور سے بالکل کوئی اختلاف نہیں۔اور اسی نکتہ کونہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔چونکہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں سے وہ حوالے جن سے آپ کی نبوت کے خلاف استدلال کیا جاتا ہے۔اوپر نقل کر دیئے ہیں اور ان کو دو حصوں پر تقسیم کیا ہے ایک ۱۹۰۱ء سے پہلے کے۔اور ایک ۱۹۰۱ء کے بعد کے۔اس لئے ہر ایک شخص بآسانی اس بات کو معلوم کر سکتا ہے کہ جن