انوارالعلوم (جلد 2) — Page 413
(۶) ’’عربی و عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنےوالا ہو اور بھی کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے ‘‘(مکتوب مندر جہ اخبار عام ۲۶مئی ۱۹۰۸ء) (۷) ’’جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت فلا یظهر على غيبه کے مفہوم نبی کا صادق آۓ گا۔\"- ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد ۸ اصفحہ۲۰۸)اس حوالہ سے ثابت ہے کہ قرآن کریم میں بھی نبی کی وہی تعریف کی گئی ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں اور حضرت مسیح موعود بھی اسی آیت سے استدلال فرماتے ہیں۔جس سے میں نے استدلال کیاتھا۔(۸) \"ہم خدا کے ان کلمات کو جونبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سےموسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت اسی پیشگوئیوں بذریعہ وحی دی جائیں اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں\"۔(۹) \"یہ مکالمہ الہٰیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خداتعالی ٰکی طرف سے میرے پر نازل ہو تا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور چونکہ میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔مگر بغیر شریعت کے۔(تجلیات الہٰیہ صفحہ۲۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۱۲) اس حوالہ سے بھی صاف ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں(یعنی نبی کی یہی تعریف ہے اور کوئی تعریف نہیں جس کی بناء پر کسی ایسے نبی کی نبوت کا انکار کر دیاجائے جس پر یہ تعریف صادق آتی ہو)(۱) جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی طور پر بکثرت نازل ہو (۲)جو غیب پر مشتمل ہو (۳) اسی لئے خدا نے آپ کا نام نبی رکھا اور یہی وہ تعریف ہے جو میں اس سےپہلے نبی کی کر آیا ہوں (1) یعنی کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں (۴) جو انذار و تبشیر کا پہلورکھتے ہوں (۳) خدائے تعالیٰ اس کا نام نبی رکھے۔حضرت مسیح موعودؑنے اس جگہ انذار و تبشیر کی جگہ یقینی اور قطعی کے الفاظ رکھے ہیں لیکن ان کا مطلب وہی ہے اس لئے کہ یقینی اور قطعی و حی وہی *بحوالہ بدرا۱جون ۱۹۰۸ ص۱۰