انوارالعلوم (جلد 2) — Page 412
۴۱۳ رسول اور محدث لکھتے ہیں اور وہ خداکے پاک مکالمات اور حالات سے مشرف ہوتے ہیں۔اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں۔اور اکثروعا ئیں ان کی قبول ہوتی ہیں (لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۵) یہ حوالہ تو بہت ہی صاف ہے اور وہ پہلی شرائط نبوت جن کے پائے جانے سے انسان نبی کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کا نام نبی رکھتا ہے نہایت وضاحت سے اس میں مذکور ہیں۔اول یعنی کثرت مکالمات و مخاطبات کا پایا جا جس کی تشریح حوالہ نمبر۳ میں حضرت مسیح موعود نے خود فرما دی ہے کہ اس سے مراد وہ مکالمات ہیں جن میں کثرت سے غیب کی خبریں پائی جائیں دوم ان اخبار غیبیہ کا انذار و تبشیر کارنگ رکھنا ہے حضرت مسیح موعود نے خوارق کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔اور اس طرح ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کو الگ کردیا ہے۔جنہیں بعض غیب کی خبریں تو بتائی جاتی ہیں لیکن وہ خوارق نہیں کہلا سکتیں۔مثلا ًکسی کو رؤیا ہو جائے کہ تیرے ہاں بیٹا پیدا ہو گا یا ہے کہ فلاں شخص مر جائے گا۔اور یہ بات اسی طرح واقع بھی ہو جائے تو یہ رؤیاوحی نبوت کے ماتحت نہیں آئے گی جب تک ایسے آدمی کو اس قسم کے الہامات نہ ہوں جو اپنے اندر خارق عادت نشانات کی خبریں نہ رکھتے ہوں جس کا نام قرآن شریف نے تبشیر و انذار رکھا ہے لیکن ایک طرف تو اللہ تعالی اسے اس کے متبعین کی ترقیوں اور ان کے بڑھانے کے وعدے دے اور باوجو د دنیا کی مخالفت کے وہ غارق عادت طور پر پورے ہوں اور دوسری طرف اس کے مخالفین اور منکریوں کی ہلاکت اور تباہی کی خبریں دے جو باوجو و مخالفوں کی کثرت اور قوت اور شوکت کے بڑے زور سے پوری ہوں اور جو اس کا مقابلہ کرے وی انذاری پیشگوئیوں کے ماتحت ہلاک ہو جائے اور جو اس کی باتوں کو سچے دل سے قبول کرے اور راست بازی سے ان پر عمل کرے اس کی تبشیری پیشگوئیوں کے ما تحت اللہ تعالی کی نصرت کا ہاتھ دیکھے اور یہ دونوں باتیں ظاہر واقعات و اسباب و علل کی مخالفت میں پوری ہوں اور ان میں ایک خارق عادت نصرت الہٰی کا نشان پایا جائے۔غرض کہ اس حوالہ سے بڑے روشن طور سے ثابت ہے کہ اسلام کی اصطلاح میں نبی وہی ہوتا ہے جو محبت الہٰی میں فنا ہو کر شفقت علىٰ خلق اللہ کا سبق سیکھتا ہے اور پھر اس پر نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔یعنی کثرت سے امور غیبیہ کی اطلاع اسے دی جاتی ہے اور وہ اپنے اندر انذار و تبشیر کا رنگ رکھتی ہیں اور خارق عادت طور پر ان کا ظہور ہو تا ہے اور عام ملہموں کے الہامات اہمیت میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔