انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 403

کوئی شریعت نہیں لائے ، مثلا یوسف ،سلیمان ،زکریا، یحییٰ علیهم السلام ان کوئی نہ کہا جا تا۔یا ناقص نبی ان کا نام رکھا جاتا۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کا نام بھی نبی ہی رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ بھی ان کو نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔اور حضرت یح موعود بھی فرماتے ہیں کہ ’’بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے\" (بر منرو جلد ۵ رایج ۱۹۰۸ء پھر سارے قرآن کو غور سے پڑھ جاؤ ایک آیت بھی اس میں ایسی نہ ملے گی جس کا یہ مضمون ہو کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جسے بلا واسطہ نبوت ملی ہو۔پس نبی کے لئے یہ شرط لگانی کہ نبی وہی ہو سکتاہے جو بلا واسطہ نبی بنا ہو۔ایک ایسی بات ہے جس کا ہرگز کوئی ثبوت نہیں قرآن کریم میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ ایسا نبی کوئی نہیں گزرا جسے بالواسطہ نبوت ملی ہو یہ بات تو ہم صرف اپنی عقل سے معلوم کرتے ہیں ورنہ قرآن کریم نے صریح الفاظ میں ہرگز کہیں نہیں فرمایا کہ کل نبیوں کو نبوت بلاواسطہ ملی ہے اگر کہیں ہے تو اس آیت کو پیش کرو یہ بات تو ہم صرف اس بناء پر مانتے ہیں کہ چونکہ آنحضرت ﷺسے پہلے کوئی ایسانبی نہیں ہؤا یا کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جسے خاتم النبّین اور خاتم الكتب کہا جا سکے( اور اگر ایسا ہوتا تو پھر قرآن کریم کا نزول ہی کیوں ہوتا اس لئے پہلے نبیوں کو نبوت براہ راست ہی ملتی ہوگی نہ کسی دوسرے نبی کی اتباع سے۔اور ضرور بعض انعامات ایسے ہوتے ہوں گے جو پہلے انبیاء یا پہلی کتب کی پیروی سے حاصل نہ ہو سکتے ہوں گے ورنہ جس نبی کی اتباع سے اور جس کتاب پر چل کر انسان نبی بن سکتا ہو اس نبی اور اس کتاب کے بعد کسی اور صاحب شریعت نبی کی ضرورت نہ رہتی اور وہی خاتم النبّین کہلا تااور اس کی کتاب خاتم الكتب کہلانے کی مستحق ہوتی۔پس پہلے نبیوں اور کتابوں کے بعد اور نبیوں کا مبعوث ہونا اور دیگر کتابوں کا نازل ہونا ثابت کرتا ہے کہ ابھی تک دین ایسا کامل نہ ہوا تھا کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلی ٰانعامات حاصل کر سکے اور ضرور ہے کہ پہلے انبیاء انعام نبوت براہ راست حاصل کرتے ہوں گے۔اور یہ قیاس ایسے دلائل پر مبنی ہے کہ اس کا انکار نہیں ہو سکتا۔لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ ہمارا قیاس ہے اور قرآن کریم نے کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں فرمایا کہ پہلے کل انبیاء براہ راست نبوت حاصل کرتے تھے یا یہ کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہ راست نبوت پائے۔اور عقل سے بھی کبھی اس لغو شرط کی اجازت نہیں دی کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہ راست نبوت حاصل کرے۔جب نبوت ایک شخص کو حاصل ہو گئی تو پھر اس قول کے کیا معنی ہوئے کہ یہ نبی۔