انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 402

۴۰۲ کرنے والے تھے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌۚ-یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَۚ- (المائدہ۔۴۵)لیکن ہم نے توریت اتاری ہے اس میں ہدایت اور نور کی باتیں ہیں۔کئی نبی جو اللہ تعالی کے فرمانبردار تھے اس کے ذریعہ سے یہودیوں کے درمیان فیصلہ کیا کرتے تھے۔اور ربانی بھی بوجہ اس کے کہ انہیں کتاب اللہ یاد کرائی گئی تھی اور وہ اس پر نگران تھے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ بہت سے ایسے نبی گزرے ہیں جو کوئی نئی شریعت نہیں لائے بلکہ توریت کے مطابق ہی وہ فیصلہ کیا کرتے تھے اور ان کا کام توریت کو منسوخ کرنانہ تھا بلکہ اس کی نگرانی اور حفاظت تھا۔انجیل میں حضرت مسیح کا قول تو مشہور ہی ہے کہ میں توریت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔قرآن کریم میں تو حضرت ابراہیم کی نسبت بھی آتا ہے که وا من شيعته برمیم یعنی حضرت نوحؑ کی جماعت میں سے حضرت ابراہیم ؑبھی تھے۔پس گو ہر ایک نبی پر کلام اترتا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارتوں اور نذر کے صحف ملتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ دو صاحب شریعت بھی ہوں بلکہ مفید نصائح اور امور غیبیہ اور ہدایت و معرفت کی باتیں ان پر الہام ہوتی ہیں میں قرآن کریم سے صاف ثابت ہے کہ ایسے ہی بہت سے گذرے ہیں جو نبی تھے لیکن صاحب شریعت نہ تھے اور ان کے شریعت نہ لانے کی وجہ سے ان کی نبوت میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی وہ بھی ثبوت کے لحاظ سے ویسے ہی نبی تھے جیسے کہ دوسرے گو بعض میں ایک نئی خصوصیت پیدا ہوگئی تھی اور علاوه اصلاح مفاسد کے کام کے شریعت کاپہنچانابھی ان کے سپرد کیا گیا تھا اور اس کی وجہ اس کے سوا اور کوئی نہ تھی کہ جس زمانہ میں وہ مبعوث ہوئےاس وقت پہلی شریعت یا تو مٹ گئی تھی یا ایسی مسخ ہو گئی تھی کہ اس کی اصلاح فضول تھی۔پس ان کواللہ تعالی نے نئی شریعت دے کر بھیجا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں: \"خداکے احکام جو امراور نہی کے متعلق ہوں وہ عبث طور پر نازل نہیں ہوتے بلکہ ضرورت کے وقت خدا کی نئی شریعت نازل ہوتی ہے یعنی ایسے زمانہ میں نئی شریعت نازل ہوتی ہے جبکہ نوع انسان پہلے زمانہ کی نسبت بد عقیدگی اور بد عملی میں بہت ترقی کر جائے اور پہلی کتاب میں ان کے لئے کافی ہدایتیں نہ ہوں“ ( چشمه معرفت صفحہ ۷۲ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۸۰) پس شریعت اسی وقت بھیجی جاتی ہے جب پہلی شریعت خراب ہو جائے۔اور ہر ایک نبی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کوئی شریعت بھی لائے اور اگر ایسا ضروری ہو تا تو چاہئے تھا کہ وہ لوگ جو