انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 396

۳۹۹ بعض معاملات جو پہلے پوشیدہ تھے اس وقت کھولے گئے۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۵۵ اپر کیے ہیں کہ \" پھر جبکہ خدا نے اور اسکے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تیئں افضل قرار دیتے ہو\" اس حوالہ سے ثابت ہے کہ جو شخص آپ کی افضلیت بر مسیح کا قائل نہ ہو اس کے خیال کوحضرت مسیح موعود شیطانی وسوسہ ظاہر فرماتے ہیں۔اب کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جبکہ آپ خودایک خیال کے مدت تک قائل رہے۔تو پھر اسی خیال کو اب شیطانی وسوسہ کیوں ظاہر فرماتے ہیں۔جب تیرہ سال تک آپ کو مسیح سے افضل نہ ماننے کے باوجود انسان حق پر رہ سکتا تھا۔تو اب کیوں اسے شیطانی وسوسہ ظاہر کیا جا تاہے تواس کا صاف جواب یہ ہے کہ افضل تو آپ پہلے بھی تھے۔اس وقت تک پورے طور پر بات نہ کھلی تھی۔اس لئے آپ اس کی تاویل کرتے رہے اور بعد میں جب انکشاف ہواتو افضلیت کا اظہار فرمایا۔اور جب خدا تعالی ٰکی طرف سے انکشاف ہوا تو اب جواس کے خلاف آواز اٹھائے اور شیطانی وسوسہ میں گرفتار ہے اسی طرح حضرت اقدس نے پہلے خود مسیح کے آسمان سے آنے کا عقیدہ ظاہر فرمایا اور بعد کی تحریروں میں لکھا ہے کہ یہ ایک شرک ہے اور جو اس عقیدہ کا ماننے والا ہے وہ خدا تعالی ٰکے حضور جوابدہ ہے۔تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں پڑ سکتا کہ جب آپ اس عقیدہ کے اس قدر مدت تک قائل رہے تو خدا کے برگزید و او ر ملہم رہے اب کیوں یہ عقیدہ شرک ہو گیا؟ کیا اس سے معلوم نہیں ہو تاکہ یہ ایک معمولی عقیدہ ہے۔سواس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ جب تک خدا تعالی ٰنے اس معاملہ کو کھولا نہیں یہ شرک نہ تھا۔لیکن جب اس نے کھول دیا۔تو اب یہ سخت شرک ہو گیا۔یہی جواب نبوت کے متعلق ہے آپ نبی ابتداءسے تھے لیکن جب تک پورے طور پر انکشاف نہ ہوا آپ اس عقیدہ کو جو لوگوں میں رائج تھامانتے رہے۔لیکن بعد میں جب انکشاف ہو گیا تو اس کو بدل دیا۔اور اب اس عقیدہ کا اتنا ضروری ہو گیا اور چونکہ خدا کے نزدیک آپ شروع دعوی ٰسے نبی تھے اس لئے مسیحیت کے دعوے کے ساتھ نبوت بھی لازم و ملزوم تھی اگر کہو کہ ایسی کھلی بات مسیح موعود کو پہلے کیوں نہ معلوم ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح معلوم نہیں ہوئی جس طرح مسیح کی حیات کا مشرکانہ عقید و معلوم نہ ہوا۔اور جس طرح بار جو و خداتعالی ٰکے فرمانے سب نبیوں کے اتفاق یہود و نصاریٰ کے اتفاق کے مسیح پر