انوارالعلوم (جلد 2) — Page 388
۳۸۸ افضل نہیں ہو سکتا اس لئے اپنی فضیلت کو جز ئی فضیلت قرار دیتے تھے نہ تمام شان میں۔اور حقیقۃالوحی میں اپنے افضل ہونے کی وجہ بتاتے ہیں کہ مجھے بار بار نبی کہا گیا ہے اس لئے میں نے جانا کہ میں افضل ہوں پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ افضلیت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کا عقیدہ بدل گیاتھا تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ حضرت صاحب نے اپنے نبی ہونے کے متعلق بھی اعتقاد بدل لیا تھااور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ نہیں حضرت صاحب ہمیشہ اپنے آپ کو مسیحؑ پر ایک ہی قسم کی فضیلت دیتے رہے ہیں تو یہ ایک دلیل ہوگئی اس بات کے ثبوت میں کہ دعوائے نبوت کے متعلق حضرت صاحب کا خیال ایک سا رہا اور یہ مطلب تریاق القلوب کے حوالہ کے بدل دینے سے حاصل ہو گیا کیونکہ لکھ دیا گیا کہ ’’غیرنبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے‘‘ اور اس طرح ایک خاص مطلب حاصل ہو گیا۔اور وہ یہ کہ کوئی شخص تریاق القلوب اور حقیقۃالوحی کے حوالوں کو ملا کر کہہ سکتا تھا کہحضرت صاحب نے خود لکھا ہے کہ غیرنبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی ہاں جزئی فضیلت ہو سکتی ہے اور حقیقۃ الوحی میں اپنے افضل ہونے کا اعلان فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ دعوائے نبوت کرتے ہیں پس اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے اصل حوالہ کے الفاظ کو جو یہ تھے کہ \"یہ ایک جز ئی فضیلت ہے جو غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے\" بدل گریوں کر دیا کہ \"غیرنبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے۔‘‘ حقیقۃالوحی اور کشتی نوح میں یہ مضمون دیکھ کر کہ میں پہلے مسیحؑ سے افضل ہوں کوئی اس طرف ہدایت نہ پا جاۓ کہ آپ نبی تھے اور اس مسخ شدہ اور محرف حوالہ کو یادکرکے خیال کرلےکہ خیر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو مسیحؑ پر تمام شان میں افضل قرار دے دیا تو کیا ہوا آپ اس سے نبی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ آپ خود ہی لکھ چکے ہیں کہــ غیرنبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے۔‘‘ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے حضرت مسیح موعودؑنے ہرگز ایسا نہیں کیا بلکہ یہ لکھا ہے کہ اس جگہ کوئی شخص یہ دھوکہ نہ کھاۓ کہ میں نے اپنے آپ کو فضیلت دی ہے۔کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو نبی سے افضل قرار دیا جائے تو ضرور ہے کہ وہ نبی ہو۔پس تریاق القلوب کے حوالہ سے جز ئی کالفظ مٹادینے سے معنی بالکل بدل گئے اور بالکل خلاف نتیجہ پیدا ہوا۔پھر اسی پر بس نہیں ذرا آگے چل کر آپ فرماتے ہیں کہ ’’جس کے یہ معنی ہوۓ کہ مئی ۱۹۰۲ءمیں مسیح موعود ؑنے اعلان کیا کہ میرا جزوی نبوت کا دور ختم ہوا۔اور آج کامل نبوت کا دور شروع ہوتا ہے، اور ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۲ء کو یعنی چھ سات ماہ بعد لکھا کہ میری فضیلت حضرت عیسیٰؑ پرویسی ہی