انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 295

۲۹۵ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود یورپ میں تبلیغ اسلام کے لئے اپنے الہاموں اور معجزات کا ذکر کرنا ضروری خیال فرماتے ہیں خود حضرت مسیح موعودؑ نے یورپ اورامریکہ میں تبلیغ کی ہے اور اشتہار ارسال فرمائے ہیں ان میں دیکھ لیں کیا طریق ہے اپناذکر کیا ہے یانہیں۔مکہ معظمہ کو جو تبلیغی چٹھی لکھی ہے اسی کو پڑھ لیں آیا لا الہ الا اللہ کی تعلیم دے کر چھوڑدیا ہے یا آگے اپنے آپ کو بھی منوانے کی کوشش کی ہے آپ کا طریق عمل ظاہر ہے پھر ہم اس سےکیو نکر منحرف ہوں خود آپ نے جب وطن کی تحریک پر مسلم انڈیا کی طرز پر ریویو کو چلانا چاہا تو حضرت (صاحب) نے بھی جواب دیا کہ کیا آپ لوگوں کے سامنے مردہ اسلام پیش کریں گے۔کیاریو یو یورپ کے لئے جاری نہ ہوا تھا کیا ایڈیٹر وطن اور ڈاکٹر عبداالحکیم کو ہی اعتراض نہ تھا کہ جورسالہ یورپ کے لئے ہے اس میں صرف عام اسلامی مضامین ہوں سلسلہ کا ذکر کیوں کیا جا تا ہے اورعبدالحکیم کو جو کچھ جواب ملاوہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔حضرت خلیفہ اول نے اگر آپ کی تعریف کی تو اس سے کیا ثابت ہوا آپ ان کو لکھ رہے تھےکہ میں بہت اچھا کام کر رہا ہوں انہوں نے لکھا کہ ہاں جزاکم اللہ۔ہم اگر آپ کی تعریف کرتے تھے تو اس لئے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہ تھا جس سے معلوم ہو کہ آپ وہاں احمدیت کا ذکر نہیں کریں گے آپ ہندوستان میں فرمایا کرتے تھے کہ میں سڑک صاف کرلوں پھر سلسلہ کا ذکر کریں گےہمارا خیال تھا کہ آپ جن کو مسلمان بناتے ہیں ان کو کچھ عرصہ کے بعد احمدی بنائیں گے یا کم سے کم ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا حتی کہ حضرت خلیفہ اول جب بیمار تھے تو آپ کا وہ خط آیا جس میں لکھا تھا کہ یہاں اسلام کے فرق کا ذکر سمِّ قاتل ہے یا اسی قسم کے اور لفظ تھے اس کے بعد آپ سے ہمیں کوئی ہمدردی نہ رہی جس قدر ہمدردی تھی جاتی رہی کیونکہ ہمارا تعلق آپ سے مسیح موعود ؑکے ذریعہ سے تھاجب آپ نے اس کے طریق کو چھوڑا ہم نے اسی وقت سے آپ کو چھوڑ دیا اور جب اس کے طریق کو اختیار کرلیں گے ہم بھی آپ سے اسی طرح ملیں گے جس طرح بھائی بھائی ملتے ہیں یا جس طرح ان کو ملنا چاہئے۔پھر ایک اور فرق پیدا ہو گیا اور وہ یہ کہ آپ نے مرکزسے قطع تعلق کر لیا اور ہمارے خیال میں ترقی اسی وقت ہو سکتی ہے جب متحدہ کوشش سے کام ہو۔پس آپ کومدد دینا گویا دو مرکزوں کو تسلیم کر کےسلسلہ کی اتحادی طاقت کو توڑنا تھا اور پھر سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کا کام بھی ولایت میں شروع کر دیا گیا تھا جس کی مدد کرنا ہمارا پہلا فرض تھا۔پس یہ وجہ ہے کہ کل کچھ اور کہا جا تا تھا اور آج کچھ اور آپ اس بات پر کیوں حیران ہیں کہ میری نسبت اور بعض